صحیح بخاری حدیث ۱۸۴۹ - احرام میں وفات پانے والے کا غسل اور کفن
احرام میں وفات: غسل، کفن، خوشبو اور سر ڈھانپنے کا حکم
صحیح بخاری : ۱۸۴۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۸۴۹
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " بَيْنَا رَجُلٌ وَاقِفٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ ، إِذْ وَقَعَ عَنْ رَاحِلَتِهِ ، فَوَقَصَتْهُ ، أَوْ قَالَ : فَأَقْعَصَتْهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ ، أَوْ قَالَ : ثَوْبَيْهِ ، وَلَا تُحَنِّطُوهُ ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ ، فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي " .
عبداللہ بن عباس روایت:
میدان عرفات میں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ٹھہرا ہوا تھا کہ اپنی اونٹنی سے گر پڑا اور اس اونٹنی نے اس کی گردن توڑ ڈالی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانی اور بیری کے پتوں سے اسے غسل دو اور احرام ہی کے دو کپڑوں کا کفن دو لیکن خوشبو نہ لگانا نہ اس کا سر چھپانا کیونکہ اللہ تعالیٰ قیامت میں اسے لبیک کہتے ہوئے اٹھائے گا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۸۴۹ کا خلاصہ
یہ حدیث احرام میں وفات پانے والے شخص کے بارے میں ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص عرفات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑا تھا۔ وہ اپنی اونٹنی سے گر پڑا اور اس کی گردن ٹوٹ گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو، اور احرام ہی کے دو کپڑوں میں کفن دو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ اسے خوشبو نہ لگانا اور اس کا سر نہ چھپانا، کیونکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے لبیک کہتے ہوئے اٹھائے گا۔ اس حدیث میں محرم کی وفات کا خاص حکم بیان ہوا ہے۔ اس کا مرکزی سبق یہ ہے کہ احرام کی حالت مرنے کے بعد بھی اس خاص معاملے میں ملحوظ رکھی گئی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عرفات میں ایک محرم شخص کی وفات کا واقعہ بیان ہوا ہے۔
- اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دینے کا حکم دیا گیا۔
- اسے احرام کے دو کپڑوں میں کفن دینے کی ہدایت ہوئی۔
- خوشبو نہ لگانے اور سر نہ ڈھانپنے کا حکم دیا گیا۔
