صحیح بخاری حدیث ۱۸۵۵ - والد کی طرف سے حج اور نظر کی حفاظت

حج بدل اور نظر کی حفاظت: خثعم کی عورت کا سوال

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۸۵۵

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ الْفَضْلُ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ ، فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَى الشِّقِّ الْآخَرِ ، فَقَالَتْ : " إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَثْبُتُ عَلَى الرَّاحِلَةِ ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ " .

عبداللہ بن عباس روایت:

فضل بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں قبیلہ خشعم کی ایک عورت آئی۔ فضل رضی اللہ عنہ اس کو دیکھنے لگے اور وہ فضل رضی اللہ عنہ کو دیکھنے لگی۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فضل کا چہرہ دوسری طرف پھیرنے لگے، اس عورت نے کہا کہ اللہ کا فریضہ (حج) نے میرے بوڑھے والد کو اس حالت میں پا لیا ہے کہ وہ سواری پر بیٹھ بھی نہیں سکتے تو کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں، آپ نے فرمایا کہ ہاں۔ یہ حجۃ الوداع کا واقعہ ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۱۸۵۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں دو باتیں صاف طور پر آتی ہیں: حج بدل کا حکم اور نظر کی حفاظت کا عملی واقعہ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر پیچھے بیٹھے تھے۔ اسی وقت قبیلہ خثعم کی ایک عورت آئی۔ فضل رضی اللہ عنہ اسے دیکھنے لگے اور وہ فضل کو دیکھنے لگی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فضل کا چہرہ دوسری طرف پھیرنے لگے۔ پھر عورت نے پوچھا کہ میرے بوڑھے والد پر حج فرض ہو گیا ہے، مگر وہ سواری پر بیٹھ نہیں سکتے، کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ یہ حجۃ الوداع کا واقعہ ہے۔ اس روایت میں حج بدل کے ساتھ ادب اور نظر کے معاملے کی ایک مختصر عملی رہنمائی بھی موجود ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل رضی اللہ عنہ کا چہرہ دوسری طرف پھیر دیا۔
  • عورت نے بوڑھے والد کی طرف سے حج کا سوال کیا۔
  • والد سواری پر ٹھہرنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے۔
  • آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے والد کی طرف سے حج کرنے کی اجازت دی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں