صحیح بخاری حدیث ۱۸۷ - وضو کا بچا پانی اور قصر نماز
وضو کا بچا پانی: صحابہ کی محبت اور سفر کی نماز
صحیح بخاری : ۱۸۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۸۷
حَدَّثَنَا آدَمُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ ، يَقُولُ : " خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْهَاجِرَةِ ، فَأُتِيَ بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَأْخُذُونَ مِنْ فَضْلِ وَضُوئِهِ فَيَتَمَسَّحُونَ بِهِ ، فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ .
ابوجحیفہ روایت:
ایک دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس دوپہر کے وقت تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کا پانی حاضر کیا گیا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا۔ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بچا ہوا پانی لے کر اسے (اپنے بدن پر) پھیرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی دو رکعتیں ادا کیں اور عصر کی بھی دو رکعتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے (آڑ کے لیے) ایک نیزہ تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۸۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں دو باتیں سامنے آتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بچا ہوا پانی اور ظہر و عصر کی دو دو رکعت نماز۔ حضرت ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ دوپہر کے وقت تشریف لائے۔ آپ کے لیے وضو کا پانی لایا گیا، آپ نے وضو فرمایا۔ پھر لوگ آپ کے وضو کے بچے ہوئے پانی کو لے کر اپنے بدن پر پھیرنے لگے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی دو رکعتیں پڑھیں اور عصر کی بھی دو رکعتیں پڑھیں۔ آپ کے سامنے ایک نیزہ آڑ کے طور پر تھا۔ حدیث کا اصل پیغام یہی ہے کہ صحابہ آپ سے بے حد محبت رکھتے تھے اور نماز میں آڑ کا اہتمام بھی موجود تھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آثار سے محبت رکھتے تھے۔
- نماز کے سامنے آڑ رکھنے کا عمل اس حدیث میں بیان ہوا۔
- ظہر اور عصر کی دو دو رکعتیں سفر کی نماز کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
