صحیح بخاری حدیث ۱۸۸ - وضو کے پانی سے برکت
وضو کے پانی سے برکت: ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی روایت
صحیح بخاری : ۱۸۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۸۸
وَقَالَ أَبُو مُوسَى : دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ فِيهِ ، وَمَجَّ فِيهِ ، ثُمَّ قَالَ لَهُمَا : اشْرَبَا مِنْهُ وَأَفْرِغَا عَلَى وُجُوهِكُمَا وَنُحُورِكُمَا " .
ابوموسیٰ اشعری روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ منگوایا۔ جس میں پانی تھا۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ دھوئے اور اسی پیالہ میں منہ دھویا اور اس میں کلی فرمائی، پھر فرمایا، تو تم لوگ اس کو پی لو اور اپنے چہروں اور سینوں پر ڈال لو۔
صحیح بخاری حدیث ۱۸۸ کا خلاصہ
اس مختصر حدیث میں وضو کے پانی سے برکت کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی والا پیالہ منگوایا۔ آپ نے اس میں اپنے ہاتھ دھوئے، چہرہ دھویا اور اسی پیالے میں کلی فرمائی۔ پھر آپ نے فرمایا کہ تم دونوں اس میں سے پی لو اور اپنے چہروں اور سینوں پر ڈال لو۔ حدیث کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خاص واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیش آیا، اس لیے اسے اسی حد تک سمجھنا چاہیے۔ یہاں اصل توجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بچے پانی، صحابہ کے لیے آپ کی شفقت، اور برکت کی دعا کے انداز پر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مواقع پر اپنے وضو کے پانی سے صحابہ کو فائدہ پہنچایا۔
- صحابہ آپ کے حکم پر عمل کرتے اور اسے سعادت سمجھتے تھے۔
- حدیث کو اسی خاص واقعے کے طور پر سمجھنا چاہیے جو متن میں آیا ہے۔
