صحیح بخاری حدیث ۱۸۹ - وضو کے بچے پانی سے محبت
نبی کے وضو کا پانی: صحابہ کی محبت کا انداز
صحیح بخاری : ۱۸۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۸۹
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ ، قَالَ : وَهُوَ الَّذِي مَجّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِهِ ، وَهُوَ غُلَامٌ مِنْ بِئْرِهِمْ ، وَقَالَ عُرْوَةُ : عَنْ الْمِسْوَرِ وَغَيْرِهِ يُصَدِّقُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ ، " وَإِذَا تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَادُوا يَقْتَتِلُونَ عَلَى وَضُوئِهِ " .
محمود بن الربیع روایت:
محمود وہی ہیں کہ جب وہ چھوٹے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہی کے کنویں (کے پانی) سے ان کے منہ میں کلی ڈالی تھی اور عروہ نے اسی حدیث کو مسور وغیرہ سے بھی روایت کیا ہے اور ہر ایک (راوی) ان دونوں میں سے ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرماتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بچے ہوئے وضو کے پانی پر صحابہ رضی اللہ عنہم جھگڑنے کے قریب ہو جاتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۸۹ کا خلاصہ
یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بچے پانی سے صحابہ کی محبت کو بیان کرتی ہے۔ ابن شہاب، محمود بن الربیع کا ذکر کرتے ہیں کہ وہ وہی صحابی ہیں جن کے بچپن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کنویں کے پانی سے ان کے چہرے پر کلی ڈالی تھی۔ پھر عروہ کی روایت میں مسور وغیرہ سے یہ بات بھی آئی کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرماتے تو صحابہ آپ کے وضو کے بچے پانی کو لینے میں اتنی رغبت رکھتے کہ قریب ہوتا کہ وہ اس پر جھگڑ پڑیں۔ اس حدیث کا مقصد صحابہ کی عقیدت، محبت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آثار سے تعلق کو بیان کرنا ہے۔ ہمیں متن سے آگے بڑھ کر کوئی نیا حکم نہیں گھڑنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بچے پانی کو اہم سمجھتے تھے۔
- بچپن کا ایک واقعہ بھی صحابی کی شناخت کے طور پر محفوظ رہا۔
- محبت کے بیان میں بھی حدیث کے الفاظ تک محدود رہنا ضروری ہے۔
