صحیح بخاری حدیث ۱۹۸۶ - روزے کے مسائل کا بیان
صحیح بخاری : ۱۹۸۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۹۸۶
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهِيَ صَائِمَةٌ ، فَقَالَ : أَصُمْتِ أَمْسِ ؟ قَالَتْ : لَا ، قَالَ : تُرِيدِينَ أَنْ تَصُومِي غَدًا ؟ قَالَتْ : لَا ، قَالَ : فَأَفْطِرِي " ، وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ الْجَعْدِ : سَمِعَ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ ، أَنَّ جُوَيْرِيَةَ حَدَّثَتْهُ ، فَأَمَرَهَا فَأَفْطَرَتْ .
جویریہ بنت حارث روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں جمعہ کے دن تشریف لے گئے، (اتفاق سے) وہ روزہ سے تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر دریافت فرمایا کے کل کے دن بھی تو نے روزہ رکھا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا آئندہ کل روزہ رکھنے کا ارادہ ہے؟ جواب دیا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر روزہ توڑ دو۔حماد بن جعد نے بیان کیا کہ انہوں نے قتادہ سے سنا، ان سے ابوایوب نے بیان کیا اور ان سے جویریہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور انہوں نے روزہ توڑ دیا۔
