صحیح بخاری حدیث ۲۱۱۱ - جدا ہونے تک بیع کا اختیار
بیع خیار کا اصول: خریدار اور بیچنے والے کا حق
صحیح بخاری : ۲۱۱۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۱۱
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمُتَبَايِعَانِ : كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ عَلَى صَاحِبِهِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ، إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، خریدنے اور بیچنے والے دونوں کو اس وقت تک اختیار ہوتا ہے، جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں۔ مگر بیع خیار میں۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۱۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خریدار اور بیچنے والے کے حق کو مختصر مگر واضح انداز میں بیان فرمایا۔ دونوں کو اس وقت تک اختیار ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں۔ مگر بیع خیار میں معاملہ الگ ہے۔ اس حدیث کا اصل موضوع بیع خیار، جدا ہونے تک اختیار اور خرید و فروخت کے حقوق ہیں۔ یہاں کوئی اضافی تفصیل نہیں، بلکہ اصولی بات ہے کہ سودا کرتے وقت دونوں فریقوں کو ایک حد تک موقع دیا گیا ہے۔ خریدنے والے کو بھی حق ہے اور بیچنے والے کو بھی حق ہے۔ اس طرح لین دین میں انصاف، وضاحت اور رضامندی کا پہلو سامنے آتا ہے۔ بیع، سودا، اختیار، خریدار کا حق اور بیچنے والے کا حق اس روایت کے اہم سرچ الفاظ ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خریدار اور بیچنے والے دونوں کو جدا ہونے تک اختیار ہے۔
- بیع خیار کا معاملہ حدیث میں الگ بیان ہوا ہے۔
- لین دین میں دونوں فریقوں کا حق تسلیم کیا گیا ہے۔
- سودا واضح رضا کے ساتھ مکمل ہونا چاہیے۔
