صحیح بخاری حدیث ۲۱۲۸ - غلہ ناپنے میں برکت
غلہ ناپنے کی حدیث: پیمائش میں برکت کا سبق
صحیح بخاری : ۲۱۲۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۲۸
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كِيلُوا طَعَامَكُمْ يُبَارَكْ لَكُمْ " .
مقدام بن معد یکرب روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اپنے غلے کو ناپ لیا کرو۔ اس میں تمہیں برکت ہو گی۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۲۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع غلہ ناپنا اور برکت ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اپنے غلے کو ناپ لیا کرو، اس میں تمہیں برکت ہو گی۔ یہ بات بہت سادہ ہے، مگر روزمرہ زندگی اور تجارت کے لیے بڑی مفید ہے۔ جب غلہ ناپا جائے تو مقدار معلوم ہوتی ہے، حساب صاف رہتا ہے، اور لین دین میں بے ترتیبی کم ہوتی ہے۔ حدیث میں برکت کا ذکر آیا ہے، اس لیے مسلمان کے لیے پیمائش کو معمولی بات نہیں سمجھنا چاہیے۔ ناپ تول صرف دنیوی حساب نہیں، بلکہ دیانت اور ترتیب کا حصہ بھی بن جاتا ہے۔ اس حدیث میں یہ نہیں کہا گیا کہ ہر معاملہ ایک جیسا ہو گا، بلکہ صاف ہدایت یہ ہے کہ غلہ ناپو، تمہارے لیے برکت کی دعا اور خوشخبری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غلہ ناپنا نبی صلى الله عليه وسلم کی ہدایت کے مطابق پسندیدہ عمل ہے۔
- مقدار معلوم کرنے سے لین دین زیادہ صاف رہتا ہے۔
- پیمائش میں برکت کا ذکر اس حدیث میں واضح طور پر آیا ہے۔
