صحیح بخاری حدیث ۲۱۲۷ - قرض ادا کرنے میں نبی صلى الله عليه وسلم کی رہنمائی
قرض ادا کرنے کی حدیث: حق داروں کو پورا حق دینا
صحیح بخاری : ۲۱۲۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۲۷
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ ، وَعَلَيْهِ دَيْنٌ ، فَاسْتَعَنْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى غُرَمَائِهِ ، أَنْ يَضَعُوا مِنْ دَيْنِهِ ، فَطَلَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ ، فَلَمْ يَفْعَلُوا ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اذْهَبْ فَصَنِّفْ تَمْرَكَ أَصْنَافًا الْعَجْوَةَ عَلَى حِدَةٍ ، وَعَذْقَ زَيْدٍ عَلَى حِدَةٍ ، ثُمَّ أَرْسِلْ إِلَيَّ ، فَفَعَلْتُ ، ثُمَّ أَرْسَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ فَجَلَسَ عَلَى أَعْلَاهُ ، أَوْ فِي وَسَطِهِ ، ثُمَّ قَالَ : كِلْ لِلْقَوْمِ ، فَكِلْتُهُمْ حَتَّى أَوْفَيْتُهُمُ الَّذِي لَهُمْ ، وَبَقِيَ تَمْرِي ، كَأَنَّهُ لَمْ يَنْقُصْ مِنْهُ شَيْءٌ " ، وَقَالَ فِرَاسٌ : عَنْ الشَّعْبِيِّ ، حَدَّثَنِي جَابِرٌ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَا زَالَ يَكِيلُ لَهُمْ حَتَّى أَدَّاهُ ، وَقَالَ هِشَامٌ : عَنْ وَهْبٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : جُذَّ لَهُ فَأَوْفِ لَهُ .
جابر روایت:
جب عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ (میرے باپ) شہید ہو گئے تو ان کے ذمے (لوگوں کا) کچھ قرض باقی تھا۔ اس لیے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ کوشش کی کہ قرض خواہ کچھ اپنے قرضوں کو معاف کر دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی چاہا، لیکن وہ نہیں مانے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ جاؤ اپنی تمام کھجور کی قسموں کو الگ الگ کر لو۔ عجوہ (ایک خاص قسم کی کھجور) کو الگ رکھ اور عذق زید (کھجور کی ایک قسم) کو الگ کر۔ پھر مجھے بلا بھیج۔ میں نے ایسا ہی کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہلا بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور کھجوروں کے ڈھیر پر یا بیچ میں بیٹھ گئے اور فرمایا کہ اب ان قرض خواہوں کو ناپ کر دو۔ میں نے ناپنا شروع کیا۔ جتنا قرض لوگوں کا تھا۔ میں نے سب کو ادا کر دیا، پھر بھی تمام کھجور جوں کی توں تھی۔ اس میں سے ایک دانہ برابر کی کمی نہیں ہوئی تھی۔فراس نے بیان کیا کہ ان سے شعبی نے، اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ ”برابر ان کے لیے تولتے رہے، یہاں تک کہ ان کا پورا قرض ادا ہو گیا۔“ اور ہشام نے کہا، ان سے وہب نے، اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کھجور توڑ اور اپنا قرض پورا ادا کر دے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۲۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع قرض کی ادائیگی اور حق داروں کا حق پورا کرنا ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے والد شہید ہوئے تو ان پر قرض باقی تھا۔ جابر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے مدد چاہی کہ قرض خواہ کچھ کمی کر دیں، مگر وہ نہ مانے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے انہیں ہدایت دی کہ کھجوروں کی قسمیں الگ الگ کر دیں، عجوہ الگ اور عذق زید الگ۔ جب ایسا کر لیا گیا تو نبی صلى الله عليه وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ قرض خواہوں کو ناپ کر دو۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے سب کا قرض ادا کیا، مگر کھجوریں کم ہوتی محسوس نہ ہوئیں۔ اس روایت میں قرض کی سنجیدگی، ترتیب، ناپ تول، اور حق ادا کرنے کا صاف پیغام موجود ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرض کو سنجیدگی سے ادا کرنا چاہیے۔
- مال کو ترتیب دے کر حق داروں کو دینا بہتر انداز ہے۔
- ناپ تول کے ساتھ حق ادا کرنا معاملے کو صاف کرتا ہے۔
