صحیح بخاری حدیث ۲۴۰۰ - مالدار کا قرض ٹالنا ظلم ہے
مالدار کا قرض ٹالنا ظلم ہے: قرض کی ادائیگی کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۴۰۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۰۰
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ أَخِي وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، مالدار کی طرف سے (قرض کی ادائیگی میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۴۰۰ کا خلاصہ
یہ حدیث مختصر ہے مگر قرض کی ادائیگی کے بارے میں بہت واضح بات کہتی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ مالدار کی طرف سے قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ یعنی جب آدمی ادائیگی کی طاقت رکھتا ہو، پھر بھی قرض خواہ کو انتظار کراتا رہے، بہانے بناتا رہے یا حق روک کر رکھے، تو یہ معمولی بات نہیں۔ حدیث اسے ظلم کہتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرض صرف قانونی یا حسابی معاملہ نہیں، بلکہ اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ اگر کسی کے پاس ادا کرنے کی قدرت ہے تو اسے حق دار کا حق روکنا نہیں چاہیے۔ قرض ٹالنے کی حدیث ہمیں وقت پر ادائیگی، انصاف اور لوگوں کے مال کا احترام سکھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مالدار شخص کے لیے قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔
- حق دار کا حق بلا وجہ روکنا درست نہیں۔
- قرض ادا کرنے کی طاقت ہو تو تاخیر سے بچنا چاہیے۔
- مالی معاملات میں انصاف اور وقت کی پابندی ضروری ہے۔
