صحیح بخاری حدیث ۲۴۰۱ - قرض دار کا حق اور نرم معاملہ

قرض کی حدیث: حقدار کو بات کہنے کا حق ہے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۰۱

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ يَتَقَاضَاهُ ، فَأَغْلَظَ لَهُ فَهَمَّ بِهِ أَصْحَابُهُ ، فَقَالَ : " دَعُوهُ ، فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص قرض مانگنے اور سخت تقاضا کرنے لگا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کی گوشمالی کرنی چاہی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو، حقدار ایسی باتیں کہہ سکتا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۲۴۰۱ کا خلاصہ

یہ حدیث قرض کے معاملے میں ایک بہت صاف اصول بتاتی ہے۔ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قرض کا تقاضا کرنے آیا اور سخت بات کی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کو یہ انداز ناگوار لگا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو، کیونکہ حقدار کو بات کہنے کا حق ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس کا حق کسی کے ذمے ہو، وہ اپنا حق مانگ سکتا ہے، اگرچہ بہتر یہی ہے کہ لہجہ نرم رکھا جائے۔ اس حدیث کا اصل سبق قرض کی ادائیگی، حقدار کا حق اور معاملہ میں برداشت ہے۔ یہ کسی کو بدتمیزی کی کھلی اجازت نہیں دیتی، بلکہ حق دار کی کیفیت کو سمجھنے کی بات سکھاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قرض خواہ کو اپنا حق مانگنے کی گنجائش ہے۔
  • حق کے معاملے میں جلد غصہ کرنے کے بجائے صبر بہتر ہے۔
  • قرض لینے والے کو دوسرے کے حق کا خیال رکھنا چاہیے۔
  • معاملات میں انصاف کے ساتھ نرمی بھی ضروری ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں