صحیح بخاری حدیث ۲۶۰۹ - بہترین قرض ادا کرنے والا

تم میں افضل وہ ہے جو قرض اچھا ادا کرے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۶۰۹

حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ أَخَذَ سِنًّا فَجَاءَ صَاحِبُهُ يَتَقَاضَاهُ ، فَقَالَ : " إِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا ، ثُمَّ قَضَاهُ أَفْضَلَ مِنْ سِنِّهِ ، وَقَالَ : أَفْضَلُكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ بطور قرض لیا، قرض خواہ تقاضا کرنے آیا (اور نازیبا گفتگو کی) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”حق والے کو کہنے کا حق ہوتا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اچھی عمر کا اونٹ اسے دلا دیا اور فرمایا ”تم میں افضل وہ ہے جو ادا کرنے میں سب سے بہتر ہو۔“

صحیح بخاری حدیث ۲۶۰۹ کا خلاصہ

یہ حدیث قرض کی ادائیگی کے بارے میں بہت واضح ہدایت دیتی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ایک اونٹ قرض لیا تھا۔ قرض خواہ تقاضا کرنے آیا اور اس کی بات میں سختی تھی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ حق والے کو کہنے کا حق ہوتا ہے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے اس سے بہتر عمر کا اونٹ دلا دیا اور فرمایا کہ تم میں افضل وہ ہے جو ادا کرنے میں سب سے بہتر ہو۔ اس حدیث میں دو پہلو ہیں: ایک یہ کہ حق دار کی بات کو برداشت کیا جائے، دوسرا یہ کہ قرض واپس کرتے وقت تنگ دلی نہ ہو۔ مالی معاملہ اگر اچھے اخلاق کے ساتھ ہو تو دلوں میں اعتماد پیدا ہوتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قرض خواہ کو اپنے حق کے مطالبے کی گنجائش ہے۔
  • قرض ادا کرتے وقت اچھے انداز کو اختیار کرنا چاہیے۔
  • بہتر چیز دینا احسان کی صورت ہو سکتی ہے۔
  • مالی معاملے میں صبر اور نرمی اچھا اخلاق ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں