صحیح بخاری حدیث ۲۶۰۸ - حق، مشورہ اور رضامندی
مشورہ اور حق کی پاسداری: ہوازن وفد کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۶۰۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۶۰۸
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَاهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ حِينَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ ، فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَسَبْيَهُمْ ، فَقَالَ لَهُمْ : مَعِي مَنْ تَرَوْنَ وَأَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلَيَّ أَصْدَقُهُ ، فَاخْتَارُوا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ إِمَّا السَّبْيَ ، وَإِمَّا الْمَالَ ، وَقَدْ كُنْتُ اسْتَأْنَيْتُ ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَظَرَهُمْ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً حِينَ قَفَلَ مِنْ الطَّائِفِ ، فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ رَادٍّ إِلَيْهِمْ إِلَّا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ ، قَالُوا : فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا ، فَقَامَ فِي الْمُسْلِمِينَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ هَؤُلَاءِ جَاءُونَا تَائِبِينَ ، وَإِنِّي رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُطَيِّبَ ذَلِكَ فَلْيَفْعَلْ ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَكُونَ عَلَى حَظِّهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيءُ اللَّهُ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ ، فَقَالَ النَّاسُ : طَيَّبْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَهُمْ ، فَقَالَ لَهُمْ : إِنَّا لَا نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ فِيهِ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ ، فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ ، فَرَجَعَ النَّاسُ فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ طَيَّبُوا وَأَذِنُوا ، وَهَذَا الَّذِي بَلَغَنَا مِنْ سَبْيِ هَوَازِنَ " . هَذَا آخِرُ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ يَعْنِي فَهَذَا الَّذِي بَلَغَنَا .
مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب ہوازن کا وفد مسلمان ہو کر حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ان کے اموال اور قیدی انہیں واپس کر دئیے جائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا میرے ساتھ جتنی بڑی جماعت ہے اسے بھی تم دیکھ رہے ہو اور سب سے زیادہ سچی بات ہی مجھے سب سے زیادہ پسند ہے اس لیے تم لوگ ان دو چیزوں میں سے ایک ہی لے سکتے ہو، یا اپنے قیدی لے لو یا اپنا مال۔ میں نے تمہارا پہلے ہی انتظار کیا تھا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طائف سے واپسی پر تقریباً دس دن تک (مقام جعرانہ میں) ان لوگوں کا انتظار فرماتے رہے۔ پھر جب ان لوگوں کے سامنے یہ بات پوری طرح واضح ہو گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی صرف ایک ہی چیز واپس فرما سکتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہم اپنے قیدیوں ہی کو (واپس لینا) پسند کرتے ہیں۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر مسلمانوں کو خطاب کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی اس کی شان کے مطابق تعریف بیان کی اور فرمایا، امابعد! یہ تمہارے بھائی ہمارے پاس اب توبہ کر کے آئے ہیں۔ میرا خیال یہ ہے کہ انہیں ان کے قیدی واپس کر دوں۔ اس لیے جو صاحب اپنی خوشی سے واپس کرنا چاہیں وہ ایسا کر لیں اور جو لوگ یہ چاہتے ہوں کہ اپنے حصے کو نہ چھوڑیں بلکہ ہم انہیں اس کے بدلے میں سب سے پہلی غنیمت کے مال میں سے معاوضہ دیں، تو وہ بھی (اپنے موجودہ قیدیوں کو) واپس کر دیں۔ سب صحابہ نے اس پر کہا، یا رسول اللہ! ہم اپنی خوشی سے انہیں واپس کرتے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن واضح طور پر اس وقت یہ معلوم نہ ہو سکا کہ کون اپنی خوشی سے دینے کے لیے تیار ہے اور کون نہیں۔ اس لیے سب لوگ (اپنے خیموں میں) واپس جائیں اور تمہارے چودھری لوگ تمہارا معاملہ لا کر پیش کریں۔ چنانچہ سب لوگ واپس ہو گئے اور نمائندوں نے ان سے گفتگو کی اور واپس ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ تمام لوگوں نے خوشی سے اجازت دے دی ہے۔ قبیلہ ہوازن کے قیدیوں کے متعلق ہمیں یہی بات معلوم ہوئی ہے۔ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا یہ زہری رحمہ اللہ کا آخری قول تھا۔ یعنی یہ کہ قبیلہ ہوازن کے قیدیوں کے متعلق ہمیں یہی بات معلوم ہوئی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۶۰۸ کا خلاصہ
اس روایت میں ہوازن کے وفد کا معاملہ بیان ہوا ہے۔ وہ مسلمان ہو کر آئے اور اپنے مال اور قیدی واپس مانگے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے انہیں صاف بات بتائی کہ دو چیزوں میں سے ایک ہی چیز واپس ہو سکتی ہے۔ انہوں نے قیدیوں کو چن لیا۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے مسلمانوں کے سامنے بات رکھی کہ یہ لوگ توبہ کر کے آئے ہیں اور آپ صلى الله عليه وسلم قیدی واپس کرنا چاہتے ہیں۔ مگر ہر شخص کا حصہ اس کی خوشی سے ہی چھوڑا جائے۔ اس لیے نمائندوں کو بھیجا گیا تاکہ معلوم ہو کہ کس نے اجازت دی اور کس نے نہیں۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ نیکی کے کام میں بھی دوسروں کے حق کا خیال ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نیکی کے کام میں بھی کسی کا حق زبردستی نہیں لیا جاتا۔
- صاف بات کرنا بہتر ہے، خاص طور پر اجتماعی معاملے میں۔
- رضامندی معلوم کرنے کا منظم طریقہ اختیار کیا گیا۔
- توبہ کر کے آنے والوں کے لیے نرمی کا پہلو رکھا گیا۔
