صحیح بخاری حدیث ۲۱۲۹ - مدینہ کی حرمت اور برکت کی دعا
مدینہ کی فضیلت کی حدیث: حرمت، دعا اور مد و صاع کی برکت
صحیح بخاری : ۲۱۲۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۲۹
حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَدَعَا لَهَا ، وَحَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ ، وَدَعَوْتُ لَهَا فِي مُدِّهَا وَصَاعِهَا مِثْلَ مَا دَعَا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام لِمَكَّةَ " .
عبداللہ بن زید روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام قرار دیا۔ اور اس کے لیے دعا فرمائی۔ میں بھی مدینہ کو اسی طرح حرام قرار دیتا ہوں جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام قرار دیا تھا۔ اور اس کے لیے، اس کے مد اور صاع (غلہ ناپنے کے دو پیمانے) کی برکت کے لیے اس طرح دعا کرتا ہوں جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کے لیے دعا کی تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۲۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع مدینہ کی حرمت اور برکت ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام قرار دیا اور اس کے لیے دعا کی۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میں بھی مدینہ کو اسی طرح حرام قرار دیتا ہوں جیسے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام قرار دیا تھا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے مدینہ کے لیے اس کے مد اور صاع میں برکت کی دعا بھی فرمائی۔ مد اور صاع غلہ ناپنے کے پیمانے ہیں، اس لیے حدیث میں شہر کی حرمت کے ساتھ روزمرہ رزق اور پیمائش کی برکت بھی شامل ہے۔ اس روایت میں مدینہ کی خاص حیثیت، نبی صلى الله عليه وسلم کی دعا، اور اہل مدینہ کے معاملات میں برکت کا ذکر صاف طور پر ملتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مکہ کی طرح مدینہ کی حرمت بھی حدیث میں بیان ہوئی ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے مدینہ کے مد اور صاع میں برکت کی دعا فرمائی۔
- دعا میں شہر، رزق اور لوگوں کے معمولات سب شامل ہو سکتے ہیں۔
