صحیح مسلم حدیث ۳۲۴۹ - حطیم کعبہ کا حصہ ہے

حطیم کعبہ کا حصہ ہے: حدیث کی آسان وضاحت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۲۴۹

حدثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حدثنا أَبُو الْأَحْوَصِ ، حدثنا أَشْعَثُ بْنُ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَدْرِ أَمِنَ الْبَيْتِ هُوَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، قُلْتُ : فَلِمَ لَمْ يُدْخِلُوهُ فِي الْبَيْتِ ؟ قَالَ : " إِنَّ قَوْمَكِ قَصَّرَتْ بِهِمُ النَّفَقَةُ " ، قُلْتُ : فَمَا شَأْنُ بَابِهِ مُرْتَفِعًا ؟ قَالَ : " فَعَلَ ذَلِكِ قَوْمُكِ لِيُدْخِلُوا مَنْ شَاءُوا ، وَيَمْنَعُوا مَنْ شَاءُوا ، وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَأَخَافُ أَنْ تُنْكِرَ قُلُوبُهُمْ ، لَنَظَرْتُ أَنْ أُدْخِلَ الْجَدْرَ فِي الْبَيْتِ وَأَنْ أُلْزِقَ بَابَهُ بِالْأَرْضِ " ،

عائشہ روایت:

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ حطیم کی دیوار بیت اللہ میں داخل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ (اس سے بھی رد ہو گیا مذہب ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا اور ناجائز ہوا طواف حطیم کے اندر سے اس لیے کہ وہ داخل بیت اللہ ہے) پھر میں نے عرض کی: اس کو بیت اللہ میں کیوں نہ داخل کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ یہ تمہاری قوم کی حرکت ہے کہ ان کے پاس خرچ کم ہو گیا۔“پھر میں نے عرض کی کہ دروازہ اس کا کیوں اونچا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بھی تمہاری قوم کا کیا ہوا ہے تاکہ جس کو چاہیں اسے جانے دیں اور جس کو چاہیں نہ جانے دیں اور اگر تمہاری قوم نے نئی نئی جاہلیت نہ چھوڑی ہوتی اور مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ ان کے دل بدل جائیں گے تو میں ارادہ کرتا کہ داخل کر دوں دیواروں کو یعنی حطیم کی بیت اللہ میں اور دروازہ اس کا زمین کو لگا دیتا۔“

صحیح مسلم حدیث ۳۲۴۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے پوچھا کہ حطیم کی دیوار بیت اللہ میں داخل ہے؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ہاں۔ پھر انہوں نے پوچھا کہ اسے بیت اللہ میں کیوں داخل نہیں کیا گیا؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے بتایا کہ قوم کے پاس خرچ کم پڑ گیا تھا۔ پھر دروازے کے اونچا ہونے کا سوال ہوا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ قریش جسے چاہتے داخل کرتے اور جسے چاہتے روک دیتے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ اگر قوم نئی نئی جاہلیت سے نہ نکلی ہوتی اور دل بدل جانے کا خیال نہ ہوتا تو آپ صلى الله عليه وسلم حطیم کو بیت اللہ میں داخل کرتے اور دروازہ زمین کے برابر کر دیتے۔ اس حدیث کا مرکزی لفظ حطیم کعبہ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حدیث کے مطابق حطیم بیت اللہ کا حصہ ہے۔
  • قریش نے خرچ کی کمی کی وجہ سے اسے عمارت میں شامل نہ کیا۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے لوگوں کے دلوں کی حالت کا خیال رکھا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں