صحیح مسلم حدیث ۳۲۵۰ - حجر اور دروازہ کعبہ

حجر کعبہ اور اونچے دروازے کی روایت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۲۵۰

وحدثناه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى ، حدثنا شَيْبَانُ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحِجْرِ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي الْأَحْوَصِ ، وَقَالَ فِيهِ : فَقُلْتُ فَمَا شَأْنُ بَابِهِ مُرْتَفِعًا لَا يُصْعَدُ إِلَيْهِ إِلَّا بِسُلَّمٍ ، وَقَالَ : مَخَافَةَ أَنْ تَنْفِرَ قُلُوبُهُمْ .

عائشہ روایت:

پوچھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حجر کو اور بیان کی حدیث ابوالاحوص کی حدیث کے ہم معنی اور اس میں یوں ہے کہ کہا انہوں نے کہ دروازہ اس کا اتنا اونچا کیوں ہے کہ بغیر سیڑھی کے اس پر نہیں جا سکتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب میں یوں ہے کہ میں ڈرتا ہوں کہ ان کے دل نفرت نہ کر جائیں۔

صحیح مسلم حدیث ۳۲۵۰ کا خلاصہ

یہ روایت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اسی سوال کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے جس میں انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے حجر یعنی حطیم کے بارے میں پوچھا۔ متن کے مطابق یہ روایت ابو الاحوص کی حدیث کے ہم معنی ہے، مگر اس میں یہ بات زیادہ واضح ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: اس کا دروازہ اتنا اونچا کیوں ہے کہ سیڑھی کے بغیر اس پر نہیں چڑھا جا سکتا؟ نبی صلى الله عليه وسلم کے جواب میں یہ بات آئی کہ آپ صلى الله عليه وسلم کو خوف تھا کہ لوگوں کے دل نفرت نہ کر جائیں۔ اس حدیث کا اصل موضوع حجر کعبہ، حطیم، باب کعبہ اور لوگوں کے دلوں کی رعایت ہے۔ وضاحت اسی متن تک محدود ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • یہ روایت سابقہ مضمون کی تائید کرتی ہے۔
  • دروازہ اتنا اونچا تھا کہ سیڑھی کے بغیر چڑھنا مشکل تھا۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے لوگوں کے دلوں کے بدلنے کے اندیشے کا لحاظ رکھا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں