صحیح بخاری حدیث ۷۲۴۳ - کعبہ، حطیم اور حکمت

حطیم اور کعبہ کی حدیث: اصلاح میں حکمت اور لوگوں کا خیال

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۲۴۳

حَدَّثَنَا مُسدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " سَأَلْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنِ الجَدْرِ ، أَمِنَ الْبَيْتِ هُوَ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ : فَمَا لَهُمْ لَمْ يَدْخِلُوهُ فِي الْبَيْتِ ؟ ، قَالَ : إِنَّ قَوْمَكِ قَصَّرَتْ بِهِمُ النَّفَقَةُ ، قُلْتُ : فَمَا شَأْنُ بَابِهِ مُرْتَفِعًا ؟ ، قَالَ : فَعَلَ ذَاكِ قَوْمُكِ ليُدْخِلُوا مَنْ شَاءُوا وَيَمْنَعُوا مَنْ شَاءُوا ، وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثٌ عَهْدُهُم بِالْجَاهِلِيَّةِ ، فَأَخَافُ أَنْ تُنْكِرَ قُلُوبُهُمْ أَنْ أُدْخُلَ الْجَدْرِ فِي الْبَيْتِ وَأَنْ أَلْصِقْ بَابَهُ فِي الْأَرْضِ " .

عائشہ روایت:

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (خانہ کعبہ کے) حطیم کے بارے میں پوچھا کہ کیا یہ بھی خانہ کعبہ کا حصہ ہے؟ فرمایا کہ ہاں۔ میں نے کہا: پھر کیوں ان لوگوں نے اسے بیت اللہ میں داخل نہیں کیا؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری قوم کے پاس خرچ کی کمی ہو گئی تھی، میں نے کہا کہ یہ خانہ کعبہ کا دروازہ اونچائی پر کیوں ہے؟ فرمایا کہ یہ اس لیے انہوں نے کیا ہے تاکہ جسے چاہیں اندر داخل کریں اور جسے چاہیں روک دیں۔ اگر تمہاری قوم (قریش) کا زمانہ جاہلیت سے قریب نہ ہوتا اور مجھے خوف نہ ہوتا کہ ان کے دلوں میں اس سے انکار پیدا ہو گا تو میں حطیم کو بھی خانہ کعبہ میں شامل کر دیتا اور اس کے دروازے کو زمین کے برابر کر دیتا۔

صحیح بخاری حدیث ۷۲۴۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلى الله عليه وسلم سے حطیم کے بارے میں پوچھا کہ کیا یہ کعبہ کا حصہ ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا ہاں۔ پھر انہوں نے پوچھا کہ قریش نے اسے کعبہ میں کیوں شامل نہیں کیا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے بتایا کہ خرچ کم پڑ گیا تھا۔ کعبہ کے دروازے کے اونچا ہونے کی وجہ بھی بیان ہوئی کہ قریش جسے چاہتے داخل کرتے اور جسے چاہتے روک دیتے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اگر قوم کا زمانہ جاہلیت سے قریب نہ ہوتا اور ان کے دلوں میں انکار کا خوف نہ ہوتا تو آپ صلى الله عليه وسلم حطیم کو کعبہ میں شامل کر دیتے اور دروازہ زمین کے برابر کر دیتے۔ حدیث میں اصلاح کے ساتھ لوگوں کی حالت کا خیال ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حطیم کعبہ کا حصہ ہے، جیسا کہ حدیث میں بیان ہوا۔
  • کعبہ کی سابقہ تعمیر میں خرچ کی کمی کا ذکر آیا۔
  • اصلاح کرتے وقت لوگوں کے دلوں اور حالت کا خیال رکھا گیا۔
  • درست کام کے لیے بھی حکمت اور مناسب وقت دیکھا جا سکتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں