صحیح بخاری حدیث ۷۲۴۴ - انصار کی فضیلت اور محبت
انصار کی فضیلت کی حدیث: نبی صلى الله عليه وسلم کی محبت بھری نسبت
صحیح بخاری : ۷۲۴۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۲۴۴
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنْ الْأَنْصَارِ ، وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَتْ الْأَنْصَارُ وَادِيًا ، أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ ، أَوْ شِعْبَ الْأَنْصَارِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر ہجرت (کی فضیلت) نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد بننا (پسند کرتا) اور اگر دوسرے لوگ کسی وادی میں چلیں اور انصار ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی یا گھاٹی میں چلوں گا۔“
صحیح بخاری حدیث ۷۲۴۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے انصار کی فضیلت اور محبت کو بہت صاف لفظوں میں بیان فرمایا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اگر ہجرت کی فضیلت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد بننا پسند کرتا۔ پھر فرمایا کہ اگر لوگ کسی وادی میں چلیں اور انصار کسی دوسری وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی یا گھاٹی میں چلوں گا۔ اس حدیث میں ہجرت کی اہمیت بھی محفوظ رہی اور انصار کے مقام کو بھی بلند انداز میں بیان کیا گیا۔ متن سے معلوم ہوتا ہے کہ انصار کی قربانی، ساتھ اور وفاداری ایسی تھی کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے ان کی نسبت کو پسند فرمایا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہجرت کی اپنی فضیلت ہے جسے حدیث میں برقرار رکھا گیا۔
- انصار سے نبی صلى الله عليه وسلم کی محبت صاف الفاظ میں بیان ہوئی۔
- دین کے مددگاروں کی قدر کرنی چاہیے۔
- وفاداری اور ساتھ دینے والوں کا مقام بلند ہوتا ہے۔
