صحیح بخاری حدیث ۷۲۴۵ - انصار کے راستے کو پسند کرنا

انصار کی محبت: نبی صلى الله عليه وسلم کا ان کی وادی کو اختیار فرمانا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۲۴۵

حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الَّنبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : "لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنْ الْأَنْصَارٍ وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا ، أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ وَشِعْبَهَا " ، تَابَعَهُ أَبُو التِّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ فِي الشِّعْبِ .

عبداللہ بن زید روایت:

اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا اور اگر لوگ کسی وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی یا گھاٹی میں چلوں گا۔ اس روایت کی متابعت ابوالتیاح نے کی، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اس میں بھی درے کا ذکر ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۷۲۴۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا، اور اگر لوگ کسی وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی یا گھاٹی میں چلوں گا۔ اس روایت میں بھی انصار کے ساتھ نبی صلى الله عليه وسلم کی خاص محبت بیان ہوئی ہے۔ متن میں ہجرت کا مقام بھی موجود ہے، کیونکہ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اگر ہجرت نہ ہوتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہجرت کی فضیلت الگ ہے، مگر انصار کی مدد، وفاداری اور قربت بھی بہت قابل قدر ہے۔ حدیث کا مرکزی موضوع انصار کی فضیلت اور ان کے ساتھ تعلق ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • انصار کا مقام نبی صلى الله عليه وسلم کے فرمان میں واضح ہے۔
  • ہجرت کی فضیلت کو انصار کی محبت کے ساتھ بیان کیا گیا۔
  • دین میں مدد کرنے والوں کی قدر کی جانی چاہیے۔
  • وفادار جماعت کے ساتھ نسبت اور ساتھ پسندیدہ ہو سکتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں