صحیح بخاری حدیث ۷۲۴۲ - صوم وصال سے ممانعت
صوم وصال سے منع: نبی صلى الله عليه وسلم کی خاص حالت والی حدیث
صحیح بخاری : ۷۲۴۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۲۴۲
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيُّ ، وَقَالَ اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ المُسَيَّب أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الوِصَالِ ، قَالُوا : فِإِنَّكَ تُوَاصِلُ ، قَالَ : أيُّكُمْ مِثْلِي ؟ ، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِ ، فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا ، وَاصَلَ بِهِمْ يَوْمًا ، ثُمَّ يَوْمًا ، ثُمَّ رَأَوْا الْهِلَالَ ، فَقَالَ : لَوْ تَأَخَّرَ لَزِدْتُكُمْ كَالْمُنَكِّل لَهُمْ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم وصال سے منع کیا تو صحابہ نے عرض کی کہ آپ تو وصال کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں کون مجھ جیسا ہے، میں تو اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے لیکن جب لوگ نہ مانے تو آپ نے ایک دن کے ساتھ دوسرا دن ملا کر (وصال کا) روزہ رکھا، پھر لوگوں نے (عید کا) چاند دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر چاند نہ ہوتا تو میں اور وصال کرتا، گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تنبیہ کرنے کے لیے ایسا فرمایا۔
صحیح بخاری حدیث ۷۲۴۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے صوم وصال سے منع فرمایا۔ صحابہ نے عرض کیا کہ آپ صلى الله عليه وسلم تو وصال کرتے ہیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ تم میں کون مجھ جیسا ہے، میں رات اس حال میں گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے۔ جب لوگ نہ رکے تو آپ صلى الله عليه وسلم نے ایک دن کے ساتھ دوسرا دن ملا کر وصال کیا، پھر چاند نظر آ گیا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اگر چاند نہ ہوتا تو میں اور وصال کرتا۔ متن کے مطابق یہ تنبیہ کے لیے تھا۔ اس حدیث کا مرکزی سبق صوم وصال سے ممانعت اور عبادت میں اپنی طاقت کو پہچاننا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عام لوگوں کو صوم وصال سے منع کیا گیا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کی خاص حالت کو عام لوگوں پر قیاس نہیں کرنا چاہیے۔
- عبادت میں ضد مناسب نہیں، نبی صلى الله عليه وسلم کی ہدایت ماننی چاہیے۔
- تنبیہ کبھی عملی انداز میں بھی دی جا سکتی ہے۔
