صحیح مسلم حدیث ۳۲۵۱ - بوڑھے والد کی طرف سے حج

والد کی طرف سے حج: خثعم کی عورت کا سوال

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۲۵۱

حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : كَانَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ تَسْتَفْتِيهِ ، فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا ، وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَى الشِّقِّ الْآخَرِ ، قَالَت : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى الرَّاحِلَةِ ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ .

عبداللہ بن عباس روایت:

فضل بن عباس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار تھے پیچھے، سو ایک عورت آئی خثعم قبیلہ کی اور وہ پوچھنے لگی اور فضل رضی اللہ عنہ اس کی طرف دیکھنے لگے اور وہ فضل کو دیکھنے لگی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فضل کا منہ دوسری طرف پھیر دیتے تھے، غرض اس عورت نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! اللہ نے جو اپنے بندوں پر حج فرض کیا وہ میرے باپ پر بھی ہوا اور وہ بوڑھے ہیں کہ سواری پر سوار نہیں ہو سکتے کیا میں اس کی طرف سے حج کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ ہاں۔“ اور یہ ذکر حجتہ الوداع کا ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۳۲۵۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ فضل بن عباس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پیچھے سواری پر تھے۔ قبیلہ خثعم کی ایک عورت مسئلہ پوچھنے آئی۔ فضل رضی اللہ عنہ اس کی طرف دیکھنے لگے اور وہ فضل کو دیکھنے لگی، تو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم فضل کا چہرہ دوسری طرف پھیر دیتے تھے۔ پھر عورت نے عرض کیا کہ میرے والد پر حج فرض ہو چکا ہے، مگر وہ بہت بوڑھے ہیں اور سواری پر قائم نہیں رہ سکتے، کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ہاں۔ یہ واقعہ حجۃ الوداع کا بتایا گیا ہے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع بدل حج اور والد کی طرف سے حج ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بوڑھے اور سواری پر نہ ٹھہر سکنے والے والد کی طرف سے حج کا سوال کیا گیا۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے اس صورت میں بیٹی کو والد کی طرف سے حج کی اجازت دی۔
  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فضل رضی اللہ عنہ کا چہرہ دوسری طرف پھیر کر نظر کی حفاظت سکھائی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں