صحیح مسلم حدیث ۳۲۴۸ - ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی روایت کی تصدیق

کعبہ کی تعمیر پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۲۴۸

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ ، حدثنا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ ، أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ بَيْنَمَا هُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ ، إِذْ قَالَ : قَاتَلَ اللَّهُ ابْنَ الزُّبَيْرِ حَيْثُ يَكْذِبُ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُهَا تَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَائِشَةُ ، لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَنَقَضْتُ الْبَيْتَ حَتَّى أَزِيدَ فِيهِ مِنَ الْحِجْرِ ، فَإِنَّ قَوْمَكِ قَصَّرُوا فِي الْبِنَاءِ " ، فقَالَ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ : لَا تَقُلْ هَذَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَأَنَا سَمِعْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ تُحَدِّثُ هَذَا ، قَالَ : لَوْ كُنْتُ سَمِعْتُهُ قَبْلَ أَنْ أَهْدِمَهُ لَتَرَكْتُهُ عَلَى مَا بَنَى ابْنُ الزُّبَيْرِ .

ابوقزعہ روایت:

عبدالملک بن مروان طواف کر رہا تھا بیت اللہ کا کہنے لگا: اللہ تعالیٰ ہلاک کرے (سیدنا) ابن زبیر (رضی اللہ عنہ) کو وہ جھوٹ باندھتا تھا ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر اور کہتا تھا کہ میں نے ان سے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ اے عائشہ! اگر تمہاری قوم نے نیا نیا کفر نہ چھوڑا ہوتا تو میں کعبہ کو توڑا کر حجر کو (حطیم کو) زیادہ کرتا اس لیے کہ تمہاری قوم نے بنائے کعبہ کم کر دی۔“ سو حارث نے کہا کہ اے امیرالمؤمنین! ایسا نہ فرمائیے اس لیے کہ میں نے بھی ام المؤمنین سے سنا ہے وہ بھی یہی حدیث بیان فرماتی تھیں تو عبدالملک نے کہا کہ اگر کعبہ گرانے کے قبل میں یہ حدیث سنتا تو ابن زبیر رضی اللہ عنہ ہی کی بناء کو قائم رکھتا۔

صحیح مسلم حدیث ۳۲۴۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں عبدالملک بن مروان طواف کے دوران سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے بارے میں سخت بات کہتے ہیں کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر روایت منسوب کرتے ہیں۔ حارث بن عبداللہ نے انہیں روکا اور کہا کہ میں نے بھی ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث سنی ہے۔ اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا فرمان بیان ہوا کہ اگر قوم نئی نئی کفر سے نہ نکلی ہوتی تو آپ صلى الله عليه وسلم کعبہ کو توڑ کر حطیم کی طرف سے اس میں اضافہ کرتے، کیونکہ قریش نے عمارت کم کر دی تھی۔ آخر میں عبدالملک نے کہا کہ اگر وہ یہ حدیث پہلے سن لیتے تو ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی تعمیر کو باقی رکھتے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سنی ہوئی حدیث کی تصدیق گواہی کے ساتھ کی گئی۔
  • کعبہ میں حطیم کی طرف سے اضافہ کرنے کا سبب روایت میں بیان ہوا۔
  • صحیح بات معلوم ہونے کے بعد عبدالملک نے اپنی سابقہ کارروائی پر افسوس کیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں