صحیح بخاری حدیث ۲۱۳۱ - اناج گھر لانے سے پہلے نہ بیچیں
اناج کے ڈھیر کی خرید و فروخت: گھر لانے سے پہلے فروخت منع
صحیح بخاری : ۲۱۳۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۳۱
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : "رَأَيْتُ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ الطَّعَامَ مُجَازَفَةً ، يُضْرَبُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعُوهُ ، حَتَّى يُؤْوُوهُ إِلَى رِحَالِهِمْ " .
´ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ولید بن مسلم نے خبر دی، انہیں اوزاعی نے، انہیں زہری نے، انہیں سالم نے، اور ان سے ان کے باپ نے بیان کیا، کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ان لوگوں کو دیکھا جو اناج کے ڈھیر (بغیر تولے ہوئے محض اندازہ کر کے) خرید لیتے ان کو مار پڑتی تھی۔ اس لیے کہ جب تک اپنے گھر نہ لے جائیں نہ بچیں۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۳۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع اناج کی خرید و فروخت میں قبضہ اور ٹھکانے پر لانا ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے زمانے میں لوگ اناج کے ڈھیر اندازے سے خرید لیتے تھے، پھر انہیں اس بات پر تنبیہ کی جاتی تھی کہ جب تک اسے اپنے گھروں یا ٹھکانوں پر نہ لے جائیں، اسے نہ بیچیں۔ یہاں بات صرف خریدنے کی نہیں، بلکہ خریدی ہوئی چیز کو اپنے اختیار میں لانے کی ہے۔ اناج کا ڈھیر مقدار، جگہ اور حالت کے اعتبار سے واضح ہونا چاہیے۔ جب تک چیز خریدار کے قبضہ اور ٹھکانے میں نہ آئے، آگے فروخت کرنا درست طریقہ نہیں بتایا گیا۔ یہ حدیث تجارت میں بے قاعدگی اور جلد بازی سے بچنے کی عملی تعلیم دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اندازے سے خریدا گیا اناج اپنے ٹھکانے پر لائے بغیر نہ بیچا جائے۔
- قبضہ اور نقل و حمل تجارت کے معاملے کو واضح بناتے ہیں۔
- بازار کے لین دین میں نظم اور احتیاط ضروری ہے۔
