صحیح بخاری حدیث ۲۱۵۱ - مصراۃ بکری خریدنے والے کا اختیار

مصراۃ بکری خرید لی جائے تو خریدار کیا کرے؟

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۵۱

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي زِيَادٌ ، أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اشْتَرَى غَنَمًا مُصَرَّاةً فَاحْتَلَبَهَا ، فَإِنْ رَضِيَهَا أَمْسَكَهَا ، وَإِنْ سَخِطَهَا فَفِي حَلْبَتِهَا صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے «مصراة» بکری خریدی اور اسے دوہا۔ تو اگر وہ اس معاملہ پر راضی ہے تو اسے اپنے لیے روک لے اور اگر راضی نہیں ہے تو (واپس کر دے اور) اس کے دودھ کے بدلے میں ایک صاع کھجور دیدے۔

صحیح بخاری حدیث ۲۱۵۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصراۃ بکری کے بارے میں واضح رہنمائی دی۔ مصراۃ اس جانور کو کہا جاتا ہے جس کا دودھ تھن میں روک رکھا جائے تاکہ خریدار اسے زیادہ دودھ دینے والا سمجھے۔ حدیث میں فرمایا گیا کہ جس نے ایسی بکری خریدی اور اسے دوہا، پھر اگر وہ اس معاملے پر راضی ہے تو اسے رکھ لے، اور اگر راضی نہیں تو دودھ کے بدلے ایک صاع کھجور دے۔ اس روایت میں خریدار کا حق بھی رکھا گیا اور استعمال شدہ دودھ کا بدل بھی بیان ہوا۔ یہ بہت صاف اصول ہے کہ بیع میں دھوکہ سامنے آئے تو معاملہ یک طرفہ نہیں چھوڑا جاتا۔ مصراۃ، بکری کا دودھ روکنا، خریدار کا اختیار اور ایک صاع کھجور اس حدیث کے اہم سرچ الفاظ ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مصراۃ جانور خریدنے والے کو اختیار دیا گیا ہے۔
  • اگر خریدار راضی ہو تو جانور رکھ سکتا ہے۔
  • راضی نہ ہو تو دودھ کا بدل دے کر واپس کر سکتا ہے۔
  • تجارت میں چھپی ہوئی بات سامنے آنے پر انصاف کا راستہ رکھا گیا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں