صحیح بخاری حدیث ۲۲۰۲ - اچھی اور گھٹیا کھجور کا شرعی سودا

کھجور کے لین دین میں ربا سے بچنے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۲۰۲

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلَى خَيْبَرَ فَجَاءَهُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا ؟ قَالَ : لَا ، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ ، وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلَاثَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَفْعَلْ ، بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ ، ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر میں ایک شخص کو تحصیل دار بنایا۔ وہ صاحب ایک عمدہ قسم کی کھجور لائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا خیبر کی تمام کھجور اسی طرح کی ہوتی ہیں۔انہوں نے جواب دیا کہ نہیں اللہ کی قسم، یا رسول اللہ! ہم تو اسی طرح ایک صاع کھجور (اس سے گھٹیا کھجوروں کے) دو صاع دے کر خریدتے ہیں۔ اور دو صاع تین صاع کے بدلے میں لیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو۔ البتہ گھٹیا کھجور کو پہلے بیچ کر ان پیسوں سے اچھی قسم کی کھجور خرید سکتے ہو۔

صحیح بخاری حدیث ۲۲۰۲ کا خلاصہ

یہ روایت بھی اسی اہم مسئلے کو بیان کرتی ہے کہ کھجور کے لین دین میں ربا سے کیسے بچا جائے۔ خیبر سے عمدہ کھجور آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا وہاں کی تمام کھجور ایسی ہے؟ عامل نے بتایا کہ اچھی کھجور ایک صاع کے بدلے دو صاع، یا دو صاع کے بدلے تین صاع گھٹیا کھجور دے کر لی جاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف فرمایا کہ ایسا نہ کرو۔ پھر فرمایا کہ گھٹیا کھجور کو درہم کے بدلے بیچ دو، پھر درہم سے اچھی کھجور خرید لو۔ اس حدیث میں بیع میں سود، کھجور کی خرید و فروخت اور حلال تجارت کا واضح اصول آتا ہے: نیت اچھی ہو تب بھی معاملہ درست طریقے سے ہونا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اچھی چیز لینے کے لیے ممنوع تبادلے کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔
  • ایک ہی جنس کی چیز میں مقدار کا فرق شرعی مسئلہ بن سکتا ہے۔
  • درست سودا وہ ہے جس کا طریقہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے مطابق ہو۔
  • مسئلہ سامنے آئے تو حلال متبادل تلاش کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں