صحیح بخاری حدیث ۲۲۰۷ - ممنوع سودوں سے بچنے کی تعلیم
ممنوع بیع کی حدیث: پانچ سودوں سے صاف ممانعت
صحیح بخاری : ۲۲۰۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۲۰۷
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُحَاقَلَةِ ، وَالْمُخَاضَرَةِ ، وَالْمُلَامَسَةِ ، وَالْمُنَابَذَةِ ، وَالْمُزَابَنَةِ " .
انس بن مالک روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ، مخاضرہ، ملامسہ، منابذہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۲۰۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ، مخاضرہ، ملامسہ، منابذہ اور مزابنہ سے منع فرمایا۔ روایت میں ان پانچ ناموں کا ذکر آیا ہے، اس لیے یہاں اصل توجہ اسی بات پر ہے کہ مسلمان کی تجارت ہر ایسے طریقے سے بچی رہے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔ ممنوع بیع، مزابنہ کی حدیث اور حلال تجارت کے موضوع میں یہ روایت بڑی اہم ہے۔ عام آدمی کے لیے آسان سبق یہ ہے کہ سودا صرف نام کا نہیں، طریقے کا بھی ہوتا ہے۔ اگر بیع کے انداز میں دھوکا، غیر واضح چیز یا ممنوع شکل آ جائے تو اس سے بچنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ خاص قسم کے سودوں سے منع فرمایا۔
- تجارت میں طریقہ درست ہونا بھی ضروری ہے۔
- ایسی بیع سے بچنا چاہیے جس کا منع ہونا حدیث میں آیا ہو۔
- حلال تجارت کے لیے شرعی حدود کا خیال رکھا جائے۔
