حدیث ۲۲۰۸
صحیح بخاری : ۲۲۰۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۲۰۸
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ بَيْعِ ثَمَرِ التَّمْرِ حَتَّى يَزْهُوَ " ، فَقُلْنَا لِأَنَسٍ : مَا زَهْوُهَا ، قَالَ : تَحْمَرُّ وَتَصْفَرُّ ، أَرَأَيْتَ إِنْ مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ بِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَ أَخِيكَ .
´ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت کو «زهو.» سے پہلے ٹوٹی ہوئی کھجور کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا۔ ہم نے پوچھا کہ «زهو.» کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ پک کے سرخ ہو جائے یا زرد ہو جائے۔ تم ہی بتاؤ کہ اگر اللہ کے حکم سے پھل نہ آ سکا تو تم کس چیز کے بدلے میں اپنے بھائی (خریدار) کا مال اپنے لیے حلال کرو گے۔
