صحیح بخاری حدیث ۲۲۵۵ - بیع سلم اور مقررہ مدت

بیع سلم مقررہ مدت کے ساتھ: صحابہ کا عملی معاملہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۲۵۵

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُجَالِدٍ ، قَالَ : أَرْسَلَنِي أَبُو بُرْدَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ ، إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، فَسَأَلْتُهُمَا عَنِ السَّلَفِ ؟ فَقَالَا : كُنَّا نُصِيبُ الْمَغَانِمَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَانَ يَأْتِينَا أَنْبَاطٌ مِنْ أَنْبَاطِ الشَّأْمِ ، فَنُسْلِفُهُمْ فِي الْحِنْطَةِ ، وَالشَّعِيرِ ، وَالزَّبِيبِ ، إِلَى أَجَلٍ مُسَمَّى ، قَالَ : قُلْتُ : أَكَانَ لَهُمْ زَرْعٌ ، أَوْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ زَرْعٌ ؟ قَالَا : مَا كُنَّا نَسْأَلُهُمْ عَنْ ذَلِكَ .

محمد بن ابی مجالد روایت:

مجھے ابوبردہ اور عبداللہ بن شداد نے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ اور عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کی خدمت میں بھیجا۔ میں نے ان دونوں حضرات سے بیع سلم کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں غنیمت کا مال پاتے، پھر شام کے انباط (ایک کاشتکار قوم) ہمارے یہاں آتے تو ہم ان سے گیہوں، جَو اور منقی کی بیع سلم ایک مدت مقرر کر کے کر لیا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پھر میں نے پوچھا کہ ان کے پاس اس وقت یہ چیزیں موجود بھی ہوتی تھیں یا نہیں؟ اس پر انہوں نے کہا کہ ہم اس کے متعلق ان سے کچھ پوچھتے ہی نہیں تھے۔

صحیح بخاری حدیث ۲۲۵۵ کا خلاصہ

اس روایت میں عبدالرحمٰن بن ابزیٰ اور عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہم سے بیع سلم کے بارے میں پوچھا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جب غنیمت کا مال ملتا تو شام کے انباط آتے، اور صحابہ ان سے گیہوں، جَو اور منقی میں مقررہ مدت تک بیع سلم کرتے تھے۔ جب پوچھا گیا کہ کیا ان کے پاس کھیتی موجود ہوتی تھی یا نہیں، تو انہوں نے کہا کہ ہم اس کے بارے میں سوال نہیں کرتے تھے۔ حدیث کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ بیع سلم میں اصل توجہ مقررہ مدت اور معلوم چیز پر ہے۔ روایت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ دینی مسئلے میں براہ راست اہل علم صحابہ سے پوچھا گیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بیع سلم میں مقررہ مدت کا ذکر صاف طور پر آیا ہے۔
  • حدیث میں گیہوں، جَو اور منقی کی مثالیں موجود ہیں۔
  • صحابہ کھیتی کی موجودگی کے بارے میں سوال نہیں کرتے تھے۔
  • مسئلے میں اہل علم سے پوچھنا درست طریقہ ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں