صحیح بخاری حدیث ۲۲۵۶ - غرر والی بیع
حبل الحبلة کی حدیث: غیر واضح مدت والے سودے سے بچیں
صحیح بخاری : ۲۲۵۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۲۵۶
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، أَخْبَرَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهِ عَنْهُ ، قَالَ : " كَانُوا يَتَبَايَعُونَ الْجَزُورَ إِلَى حَبَلِ الْحَبَلَةِ ، فَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ " ، فَسَّرَهُ نَافِعٌ ، أَنْ تُنْتَجَ النَّاقَةُ مَا فِي بَطْنِهَا .
عبداللہ روایت:
لوگ اونٹ وغیرہ حمل کے حمل ہونے کی مدت تک کے لیے بیچتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔ نافع نے «حبل الحبلة» کی تفسیر یہ کی ”یہاں تک کہ اونٹنی کے پیٹ میں جو کچھ ہے وہ اسے جن لے۔“
صحیح بخاری حدیث ۲۲۵۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع حبل الحبلة ہے، یعنی ایسا سودا جس کی مدت غیر واضح اور دور کی حالت سے جڑی ہو۔ روایت میں بتایا گیا کہ لوگ اونٹ وغیرہ کو اس مدت تک بیچتے تھے جب تک حمل کے اندر والے حمل کا معاملہ سامنے آئے۔ نافع نے اس کی وضاحت کی کہ اونٹنی کے پیٹ میں جو ہے، وہ پہلے پیدا ہو، پھر آگے اس سے متعلق بات ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بیع سے منع فرمایا۔ اس حدیث سے غرر والی بیع کا سادہ مطلب سمجھ آتا ہے: ایسا سودا جس میں وقت، چیز یا انجام واضح نہ ہو۔ یہاں اصل تعلیم یہی ہے کہ خرید و فروخت معلوم، صاف اور قابل سمجھ شرطوں پر ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غیر واضح مدت پر سودا کرنے سے منع کیا گیا۔
- حبل الحبلة میں معاملہ بہت دور اور غیر معلوم حالت سے جڑا تھا۔
- بیع میں وقت اور چیز واضح ہونی چاہیے۔
- حدیث غرر والی بیع سے بچنے کا عملی سبق دیتی ہے۔
