صحیح بخاری حدیث ۲۲۵۷ - حق شفعہ

حق شفعہ کی حدیث: مشترک جائیداد میں پڑوسی یا شریک کا حق

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۲۵۷

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ مَا لَمْ يُقْسَمْ ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ ، وَصُرِّفَتِ الطُّرُقُ فَلَا شُفْعَةَ " .

جابر بن عبداللہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اس چیز میں شفعہ کا حق دیا تھا جو ابھی تقسیم نہ ہوئی ہو۔ لیکن جب حدود مقرر ہو گئیں اور راستے بدل دیئے گئے تو پھر حق شفعہ باقی نہیں رہتا۔

صحیح بخاری حدیث ۲۲۵۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں حق شفعہ کا بنیادی اصول بیان ہوا ہے۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اس چیز میں شفعہ کا حق دیا جو ابھی تقسیم نہ ہوئی ہو۔ پھر فرمایا کہ جب حدود مقرر ہو جائیں اور راستے بدل دیے جائیں تو شفعہ باقی نہیں رہتا۔ اس سے مشترک ملکیت کا معاملہ صاف سمجھ آتا ہے۔ جب چیز مشترک ہو اور تقسیم نہ ہوئی ہو تو شریک کے حق کو اہمیت دی گئی۔ لیکن جب حدیں الگ ہو گئیں اور راستے بھی جدا ہو گئے تو وہ سابقہ صورت باقی نہیں رہتی۔ حدیث میں نہ زیادہ تفصیل ہے نہ کسی دوسری شرط کا ذکر؛ اس لیے اصل پیغام مشترک چیز، تقسیم اور حد بندی کے گرد ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • شفعہ کا حق غیر تقسیم شدہ مشترک چیز میں بیان ہوا ہے۔
  • حدود مقرر ہونے کے بعد حکم بدل جاتا ہے۔
  • راستے الگ ہو جائیں تو شفعہ باقی نہیں رہتا۔
  • مشترک معاملات میں شریک کے حق کا خیال رکھا گیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں