صحیح بخاری حدیث ۲۲۵۸ - پڑوسی کا حق
پڑوسی کا حق حدیث: قریب پڑوسی کو خریداری میں ترجیح
صحیح بخاری : ۲۲۵۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۲۵۸
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، قَالَ : " وَقَفْتُ عَلَى سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، فَجَاءَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى إِحْدَى مَنْكِبَيَّ ، إِذْ جَاءَ أَبُو رَافِعٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا سَعْدُ ابْتَعْ مِنِّي بَيْتَيَّ فِي دَارِكَ ، فَقَالَ سَعْدٌ : وَاللَّهِ مَا أَبْتَاعُهُمَا ، فَقَالَ الْمِسْوَرُ : وَاللَّهِ لَتَبْتَاعَنَّهُمَا ، فَقَالَ سَعْدٌ : وَاللَّهِ لَا أَزِيدُكَ عَلَى أَرْبَعَةِ آلَافٍ مُنَجَّمَةً أَوْ مُقَطَّعَةً ، قَالَ أَبُو رَافِعٍ : لَقَدْ أُعْطِيتُ بِهَا خَمْسَ مِائَةِ دِينَارٍ ، وَلَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ مَا أَعْطَيْتُكَهَا بِأَرْبَعَةِ آلَافٍ ، وَأَنَا أُعْطَى بِهَا خَمْسَ مِائَةِ دِينَارٍ ، فَأَعْطَاهَا إِيَّاهُ " .
عمرو بن شرید روایت:
میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑا تھا کہ مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور اپنا ہاتھ میرے شانے پر رکھا۔ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ابورافع رضی اللہ عنہ بھی آ گئے اور فرمایا کہ اے سعد! تمہارے قبیلہ میں جو میرے دو گھر ہیں، انہیں تم خرید لو۔ سعد رضی اللہ عنہ بولے کہ بخدا میں تو انہیں نہیں خریدوں گا۔ اس پر مسور رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نہیں جی تمہیں خریدنا ہو گا۔سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پھر میں چار ہزار سے زیادہ نہیں دے سکتا۔ اور وہ بھی قسط وار۔ ابورافع رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے پانچ سو دینار ان کے مل رہے ہیں۔ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ نہ سنا ہوتا کہ پڑوسی اپنے پڑوس کا زیادہ حقدار ہے۔ تو میں ان گھروں کو چار ہزار پر تمہیں ہرگز نہ دیتا۔ جب کہ مجھے پانچ سو دینار ان کے مل رہے ہیں۔ چنانچہ وہ دونوں گھر ابورافع رضی اللہ عنہ نے سعد رضی اللہ عنہ کو دے دئیے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۲۵۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں پڑوسی کے حق کا ایک عملی واقعہ بیان ہوا ہے۔ ابورافع رضی اللہ عنہ نے سعد رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میرے دو گھر خرید لو جو تمہارے قبیلے میں ہیں۔ سعد رضی اللہ عنہ پہلے راضی نہ ہوئے، پھر قیمت کی بات ہوئی۔ ابورافع رضی اللہ عنہ کو زیادہ قیمت بھی مل رہی تھی، مگر انہوں نے بتایا کہ اگر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہ سنا ہوتا کہ پڑوسی اپنے پڑوس کا زیادہ حقدار ہے، تو میں یہ گھر تمہیں نہ دیتا۔ اس روایت میں اصل بات قریب پڑوسی کی رعایت ہے۔ یہ حدیث جائیداد کے معاملے میں پڑوسی کے حق اور قربت کی اہمیت کو بہت سادہ انداز میں سامنے لاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پڑوسی کو قربت کی وجہ سے اہم حق حاصل ہو سکتا ہے۔
- ابورافع رضی اللہ عنہ نے حدیث سن کر قریب پڑوسی کو ترجیح دی۔
- مالی فائدہ زیادہ ہونے کے باوجود پڑوسی کے حق کا خیال رکھا گیا۔
- روایت میں گھر کی خریداری اور پڑوس کا تعلق بیان ہوا ہے۔
