صحیح بخاری حدیث ۲۲۶۶ - کاٹنے والے کے دانت کا قصاص نہیں
ہاتھ کاٹنے والے کا دانت ٹوٹا: قصاص کا منصفانہ حکم
صحیح بخاری : ۲۲۶۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۲۶۶
قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ جَدِّهِ بِمِثْلِ هَذِهِ الصِّفَةِ ، أَنَّ رَجُلًا عَضَّ يَدَ رَجُلٍ ، فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ ، فَأَهْدَرَهَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
´ابن جریج نے کہا اور مجھ سے عبداللہ بن ابی ملیکہ نے بیان کیا اور ان سے ان کے دادا نے بالکل اسی طرح کا واقعہ بیان کیا` کہ ایک شخص نے ایک دوسرے شخص کا ہاتھ کاٹ کھایا۔ (دوسرے نے اپنا ہاتھ کھینچا تو) اس کاٹنے والے کا دانت ٹوٹ گیا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کا کوئی قصاص نہیں دلوایا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۲۶۶ کا خلاصہ
اس روایت میں بھی اسی طرح کا واقعہ بیان ہوا ہے کہ ایک شخص نے دوسرے شخص کا ہاتھ کاٹ کھایا۔ جس کا ہاتھ کاٹا گیا تھا، اس نے اپنا ہاتھ چھڑایا تو کاٹنے والے کا دانت ٹوٹ گیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس دانت کا قصاص نہیں دلوایا۔ اس حدیث کا اصل موضوع عدالت اور زیادتی کی پہچان ہے۔ اگر کوئی شخص دوسرے کو نقصان پہنچانے کے لیے اس کے ہاتھ کو کاٹے، تو دوسرا اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرے گا۔ اس کوشش میں اگر کاٹنے والے کو نقصان پہنچے تو معاملہ عام چوٹ جیسا نہیں رہتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فیصلہ کرتے وقت واقعہ کی پوری صورت دیکھی جاتی ہے، صرف آخری نقصان نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زیادتی شروع کرنے والا اپنے عمل کے نتیجے کا ذمہ دار ہو سکتا ہے۔
- اپنا ہاتھ چھڑانا فطری دفاع ہے۔
- عدل میں واقعہ کی پوری کیفیت دیکھی جاتی ہے۔
- دوسرے کو نقصان پہنچانے والا خود نقصان اٹھائے تو ہر حال میں قصاص نہیں بنتا۔
