صحیح بخاری حدیث ۲۲۸۹ - میت کے قرض اور نماز جنازہ کا بیان
میت کے قرض کی حدیث: نماز جنازہ سے پہلے قرض کا سوال
صحیح بخاری : ۲۲۸۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۲۸۹
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ أُتِيَ بِجَنَازَةٍ ، فَقَالُوا : صَلِّ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ ؟ قَالُوا : لَا ، قَالَ : فَهَلْ تَرَكَ شَيْئًا ؟ قَالُوا : لَا ، فَصَلَّى عَلَيْهِ ، ثُمَّ أُتِيَ بِجَنَازَةٍ أُخْرَى ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صَلِّ عَلَيْهَا ، قَالَ : هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ ؟ قِيلَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَهَلْ تَرَكَ شَيْئًا ؟ قَالُوا : ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ ، فَصَلَّى عَلَيْهَا ، ثُمَّ أُتِيَ بِالثَّالِثَةِ ، فَقَالُوا : صَلِّ عَلَيْهَا ، قَالَ : هَلْ تَرَكَ شَيْئًا ؟ قَالُوا : لَا ، قَالَ : فَهَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ ؟ قَالُوا : ثَلَاثَةُ دَنَانِيرَ ، قَالَ : صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " ، قَالَ أَبُو قَتَادَةَ : صَلِّ عَلَيْهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَعَلَيَّ دَيْنُهُ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ .
سلمہ بن اکوع روایت:
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھے کہ ایک جنازہ لایا گیا۔ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اس کی نماز پڑھا دیجئیے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا اس پر کوئی قرض ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ نہیں کوئی قرض نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ میت نے کچھ مال بھی چھوڑا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا کوئی مال بھی نہیں چھوڑا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔اس کے بعد ایک دوسرا جنازہ لایا گیا لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ ان کی بھی نماز جنازہ پڑھا دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، کسی کا قرض بھی میت پر ہے؟ عرض کیا گیا کہ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، کچھ مال بھی چھوڑا ہے؟ لوگوں نے کہا کہ تین دینار چھوڑے ہیں۔ آپ نے ان کی بھی نماز جنازہ پڑھائی۔پھر تیسرا جنازہ لایا گیا۔ لوگوں نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ اس کی نماز پڑھا دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق بھی وہی دریافت فرمایا، کیا کوئی مال ترکہ چھوڑا ہے؟ لوگوں نے کہا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، اور اس پر کسی کا قرض بھی ہے؟ لوگوں نے کہا کہ ہاں تین دینار ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ پھر اپنے ساتھی کی تم ہی لوگ نماز پڑھ لو۔ ابوقتادۃ رضی اللہ عنہ بولے، یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی نماز پڑھا دیجئیے، ان کا قرض میں ادا کر دوں گا۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز پڑھائی۔
صحیح بخاری حدیث ۲۲۸۹ کا خلاصہ
یہ حدیث میت کے قرض کی اہمیت کو بہت واضح انداز میں بیان کرتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جنازے لائے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر بار پوچھا کہ کیا میت پر قرض ہے؟ اور کیا اس نے کچھ مال چھوڑا ہے؟ ایک جنازہ ایسا تھا جس پر قرض نہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ دوسرے کے پاس قرض ادا کرنے کے لیے مال تھا، اس پر بھی نماز پڑھائی۔ تیسرے پر قرض تھا اور مال نہ تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے ساتھی کی نماز پڑھ لو۔ پھر ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس کا قرض میرے ذمے ہے، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قرض معمولی چیز نہیں، بلکہ موت کے بعد بھی اس کا معاملہ اہم رہتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- میت کے قرض کے بارے میں پوچھا گیا، اس سے قرض کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔
- اگر میت مال چھوڑے تو قرض کی ادائیگی کا معاملہ آسان ہوتا ہے۔
- کسی کے قرض کی ضمانت لینا ایک بڑی ذمہ داری ہے۔
- ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے قرض اپنے ذمے لیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی۔
