صحیح بخاری حدیث ۵۳۷۱ - قرض اور میت کی ذمہ داری
قرض کی حدیث: میت کا قرض اور ورثاء کا مال
صحیح بخاری : ۵۳۷۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۳۷۱
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُؤْتَى بِالرَّجُلِ الْمُتَوَفَّى عَلَيْهِ الدَّيْنُ ، فَيَسْأَلُ : هَلْ تَرَكَ لِدَيْنِهِ فَضْلًا ؟ فَإِنْ حُدِّثَ أَنَّهُ تَرَكَ وَفَاءً صَلَّى ، وَإِلَّا قَالَ لِلْمُسْلِمِينَ : صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْفُتُوحَ ، قَالَ : أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ، فَمَنْ تُوُفِّيَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَتَرَكَ دَيْنًا فَعَلَيَّ قَضَاؤُهُ ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کسی ایسے شخص کا جنازہ لایا جاتا جس پر قرض ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دریافت فرماتے کہ مرنے والے نے قرض کی ادائیگی کے لیے ترکہ چھوڑا ہے یا نہیں۔ اگر کہا جاتا کہ اتنا چھوڑا ہے جس سے ان کا قرض ادا ہو سکتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی نماز پڑھتے، ورنہ مسلمانوں سے کہتے کہ اپنے ساتھی پر تم ہی نماز پڑھ لو۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر فتوحات کے دروازے کھول دیئے تو فرمایا کہ میں مسلمانوں سے ان کی خود اپنی ذات سے بھی زیادہ قریب ہوں اس لیے ان مسلمانوں میں جو کوئی وفات پائے اور قرض چھوڑے تو اس کی ادائیگی کی ذمہ داری میری ہے اور جو کوئی مال چھوڑے وہ اس کے ورثاء کا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۳۷۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں بیان ہے کہ جب نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس کسی ایسے شخص کا جنازہ لایا جاتا جس پر قرض ہوتا، تو آپ صلى الله عليه وسلم پوچھتے کہ کیا اس نے قرض کی ادائیگی کے لیے کچھ ترکہ چھوڑا ہے؟ اگر اتنا مال ہوتا کہ قرض ادا ہو سکے تو آپ صلى الله عليه وسلم نماز جنازہ پڑھاتے، ورنہ مسلمانوں سے فرماتے کہ اپنے ساتھی کی نماز پڑھ لو۔ بعد میں جب اللہ تعالیٰ نے فتوحات عطا فرمائیں تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ مومنوں میں جو قرض چھوڑ کر فوت ہو، اس کا ادا کرنا میرے ذمے ہے، اور جو مال چھوڑے وہ اس کے ورثاء کا ہے۔ یہ قرض کی حدیث ہمیں قرض کی سنجیدگی، ادائیگی کی اہمیت اور ورثاء کے حق کو سمجھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرض کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے، مرنے کے بعد بھی اس کی ذمہ داری رہتی ہے۔
- میت کے ترکے سے پہلے قرض ادا کرنے کا مسئلہ سامنے آتا ہے۔
- مال چھوڑنے والے کا مال اس کے ورثاء کا حق ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے امت کے کمزور لوگوں کے لیے شفقت کا معاملہ فرمایا۔
