صحیح بخاری حدیث ۲۳۳۶ - مبارک وادی کا قیام
وادی عقیق کی حدیث: مبارک وادی میں نبوی قیام
صحیح بخاری : ۲۳۳۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۳۳۶
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أُرِيَ وَهُوَ فِي مُعَرَّسِهِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ فِي بَطْنِ الْوَادِي ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّكَ بِبَطْحَاءَ مُبَارَكَةٍ " . فَقَالَ مُوسَى : وَقَدْ أَنَاخَ بِنَا سَالِمٌ بِالْمُنَاخِ الَّذِي كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُنِيخُ بِهِ يَتَحَرَّى مُعَرَّسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ أَسْفَلُ مِنَ الْمَسْجِدِ الَّذِي بِبَطْنِ الْوَادِي بَيْنَهُ وَبَيْنَ الطَّرِيقِ وَسَطٌ مِنْ ذَلِكَ " .
´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے، ان سے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اور ان سے ان کے باپ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (مکہ کے لیے تشریف لے جاتے ہوئے) جب ذوالحلیفہ میں نالہ کے نشیب میں رات کے آخری حصہ میں پڑاؤ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے خواب میں کہا گیا کہ آپ اس وقت ایک مبارک وادی میں ہیں۔ موسیٰ بن عقبہ (راوی حدیث) نے بیان کیا کہ سالم (سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) نے بھی ہمارے ساتھ وہیں اونٹ بٹھایا۔ جہاں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بٹھایا کرتے تھے، تاکہ اس جگہ قیام کر سکیں، جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام فرمایا تھا۔ یہ جگہ وادی عقیق کی مسجد سے نالہ کے نشیب میں ہے۔ وادی عقیق اور راستے کے درمیان میں۔
صحیح بخاری حدیث ۲۳۳۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطے سے بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ذوالحلیفہ میں نالے کے نشیب میں ٹھہرے تو خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ آپ اس وقت ایک مبارک وادی میں ہیں۔ راوی موسیٰ بن عقبہ بیان کرتے ہیں کہ سالم نے بھی اسی جگہ اونٹ بٹھایا جہاں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بٹھایا کرتے تھے، تاکہ وہ اس مقام کو اختیار کریں جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام فرمایا تھا۔ متن میں وادی عقیق، مسجد، راستے اور قیام کی جگہ کا ذکر آتا ہے۔ وادی عقیق کی حدیث کا اصل پیغام یہی ہے کہ اس جگہ کو مبارک کہا گیا اور صحابہ و تابعین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کی جگہ کو یاد رکھا۔ اس سے محبت، اتباع اور جگہ کی نسبت کا پہلو سامنے آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ذوالحلیفہ کے قریب وادی کو مبارک کہا گیا۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کی جگہ کو یاد رکھا گیا۔
- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس مقام کا خیال کرتے تھے۔
- حدیث میں جگہ کی نشاندہی بھی تفصیل سے آئی ہے۔
