صحیح بخاری حدیث ۲۳۳۵ - غیر آباد زمین کا حق

غیر آباد زمین آباد کرنے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۳۳۵

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَعْمَرَ أَرْضًا لَيْسَتْ لِأَحَدٍ فَهُوَ أَحَقُّ " . قَالَ عُرْوَةُ : قَضَى بِهِ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي خِلَافَتِهِ .

عائشہ روایت:

جس نے کوئی ایسی زمین آباد کی، جس پر کسی کا حق نہیں تھا تو اس زمین کا وہی حقدار ہے۔ عروہ نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں یہی فیصلہ کیا تھا۔

صحیح بخاری حدیث ۲۳۳۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جس نے ایسی زمین آباد کی جو کسی کی نہیں تھی، تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہے۔ عروہ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں اسی کے مطابق فیصلہ کیا۔ یہ حدیث زمین آباد کرنے کے حق سے متعلق ہے۔ اس میں دو باتیں صاف ہیں: پہلی یہ کہ زمین کسی کے حق میں نہ ہو، دوسری یہ کہ کوئی شخص اسے آباد کرے۔ پھر وہ شخص اس کا حقدار بتایا گیا۔ غیر آباد زمین کی حدیث کو سمجھتے وقت یہی شرطیں ذہن میں رکھنی چاہییں، کیونکہ متن میں اسی حد تک بات آئی ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ محنت، آباد کاری اور زمین کو کارآمد بنانا قابل اعتبار عمل ہے، مگر شرط یہ ہے کہ وہ زمین پہلے کسی کے حق میں نہ ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جو زمین کسی کی نہ ہو، اسے آباد کرنے والا زیادہ حقدار بتایا گیا۔
  • حدیث میں پہلے سے کسی کا حق نہ ہونے کی شرط موجود ہے۔
  • عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور میں اسی کے مطابق فیصلہ کیا۔
  • زمین کو آباد کرنا محنت اور ذمہ داری کا کام ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں