صحیح بخاری حدیث ۲۳۳۴ - عمر رضی اللہ عنہ کا اجتماعی خیال
فتح شدہ زمین کی تقسیم اور بعد کے مسلمانوں کا خیال
صحیح بخاری : ۲۳۳۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۳۳۴
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " لَوْلَا آخِرُ الْمُسْلِمِينَ مَا فَتَحْتُ قَرْيَةً ، إِلَّا قَسَمْتُهَا بَيْنَ أَهْلِهَا كَمَا قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ " .
´ہم سے صدقہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبدالرحمٰن بن مہدی نے خبر دی، انہیں امام مالک نے، انہیں زید بن اسلم نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ` عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، اگر مجھے بعد میں آنے والے مسلمانوں کا خیال نہ ہوتا تو جتنے شہر بھی فتح کرتا، انہیں فتح کرنے والوں میں تقسیم کرتا جاتا، بالکل اسی طرح جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین تقسیم فرما دی تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۲۳۳۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں عمر رضی اللہ عنہ کا ایک اہم قول نقل ہوا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ اگر بعد میں آنے والے مسلمانوں کا خیال نہ ہوتا تو میں جو شہر بھی فتح کرتا، اسے فتح کرنے والوں میں تقسیم کر دیتا، جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین تقسیم فرمائی تھی۔ اس روایت میں اصل موضوع فتح شدہ زمین، تقسیم، اور آئندہ مسلمانوں کے حق کا خیال ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے صرف موجود لوگوں کو نہیں دیکھا، بلکہ بعد میں آنے والی امت کو بھی سامنے رکھا۔ متن میں خیبر کی تقسیم کا حوالہ ہے، اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ ہر جگہ وہی طریقہ اختیار نہ کیا گیا، کیونکہ بعد کے مسلمانوں کا خیال تھا۔ یہ حدیث اجتماعی سوچ کا سبق دیتی ہے۔ فیصلے کرتے وقت صرف فوری فائدہ نہیں، بلکہ آنے والوں کی ضرورت بھی دیکھی جا سکتی ہے، جیسا کہ عمر رضی اللہ عنہ کے قول میں آیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عمر رضی اللہ عنہ نے بعد کے مسلمانوں کا خیال کیا۔
- خیبر کی تقسیم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے طور پر ذکر کیا گیا۔
- ہر فتح شدہ زمین کو فوراً تقسیم نہ کرنے کی حکمت بیان ہوئی۔
- اجتماعی فیصلوں میں آنے والوں کے حق کا خیال اہم ہے۔
