صحیح بخاری حدیث ۲۳۶۷ - حوض کوثر سے دور کیے جانے کی تنبیہ
حوض کوثر کی حدیث: انجام کی فکر اور دین پر قائم رہنے کا پیغام
صحیح بخاری : ۲۳۶۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۳۶۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَذُودَنَّ رِجَالًا عَنْ حَوْضِي ، كَمَا تُذَادُ الْغَرِيبَةُ مِنَ الْإِبِلِ عَنِ الْحَوْضِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ میں (قیامت کے دن) اپنے حوض سے کچھ لوگوں کو اس طرح ہانک دوں گا جیسے اجنبی اونٹ حوض سے ہانک دیئے جاتے ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۲۳۶۷ کا خلاصہ
یہ حدیث حوض کوثر سے متعلق ایک سخت تنبیہ بیان کرتی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے قسم کھا کر فرمایا کہ میں اپنے حوض سے کچھ لوگوں کو اس طرح ہٹاؤں گا جیسے اجنبی اونٹ حوض سے ہٹائے جاتے ہیں۔ متن میں تفصیل کم ہے، مگر بات بہت سنجیدہ ہے کہ حوض کوثر کے قریب ہونا بڑی نعمت ہے اور اس سے دور کیا جانا خوف کی بات ہے۔ اس روایت کو حوض کوثر کی حدیث، قیامت کا حوض، نبی صلى الله عليه وسلم کا حوض اور حوض سے دور کیے جانے والے لوگ جیسے الفاظ سے تلاش کیا جاتا ہے۔ اس حدیث سے آدمی اپنے انجام کی فکر کرتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ صرف ظاہری نسبت کافی نہیں، اللہ اور رسول صلى الله عليه وسلم کی رضا کے راستے پر رہنا ضروری ہے۔ چونکہ متن میں سبب تفصیل سے بیان نہیں ہوا، اس لیے یہاں صرف اتنا کہا جا سکتا ہے جتنا حدیث نے بتایا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قیامت کے دن حوض کوثر کا معاملہ بہت اہم ہے۔
- انجام کی فکر انسان کو اپنے عمل کا جائزہ لینے پر آمادہ کرتی ہے۔
- حدیث میں بیان کردہ تنبیہ کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
- متن سے زیادہ تفصیل اپنی طرف سے شامل نہیں کرنی چاہیے۔
