صحیح بخاری حدیث ۲۳۸۵ - اونٹ کی خرید و فروخت اور قیمت کی ادائیگی
اونٹ کی خرید و فروخت کی حدیث: وعدہ کے بعد قیمت ادا کرنا
صحیح بخاری : ۲۳۸۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۳۸۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كَيْفَ تَرَى بَعِيرَكَ ، أَتَبِيعُنِيهِ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، فَبِعْتُهُ إِيَّاهُ ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ غَدَوْتُ إِلَيْهِ بِالْبَعِيرِ ، فَأَعْطَانِي ثَمَنَهُ " .
جابر بن عبداللہ روایت:
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اپنے اونٹ کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے۔ کیا تم اسے بیچو گے؟ میں نے کہا ہاں، چنانچہ اونٹ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیچ دیا۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچے۔ تو صبح اونٹ کو لے کر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کی قیمت ادا کر دی۔
صحیح بخاری حدیث ۲۳۸۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے ان سے اونٹ کے بارے میں پوچھا کہ کیا وہ اسے بیچیں گے؟ جابر رضی اللہ عنہ نے ہاں کہا اور اونٹ آپ صلى الله عليه وسلم کو بیچ دیا۔ پھر جب نبی صلى الله عليه وسلم مدینہ پہنچے تو جابر رضی اللہ عنہ صبح اونٹ لے کر حاضر ہوئے، اور آپ صلى الله عليه وسلم نے انہیں اس کی قیمت ادا کر دی۔ اس حدیث میں خرید و فروخت کا ایک سادہ اور صاف نمونہ ہے۔ بات ہوئی، بیع ہوئی، پھر وقت آنے پر قیمت ادا کی گئی۔ اس سے لین دین میں وعدہ، اعتماد اور ادائیگی کی اہمیت سمجھ آتی ہے، مگر ہمیں متن سے آگے کوئی اضافی حکم شامل نہیں کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خرید و فروخت میں بات صاف ہو تو معاملہ آسان رہتا ہے۔
- قیمت ادا کرنا خریدار کی ذمہ داری ہے۔
- وعدہ کے بعد مقرر وقت پر معاملہ پورا کرنا اچھے اخلاق میں شامل ہے۔
- حدیث میں جابر رضی اللہ عنہ کے اونٹ کی بیع کا واضح واقعہ بیان ہوا ہے۔
