حدیث ۲۴۱۰
صحیح بخاری : ۲۴۱۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۱۰
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ : أَخْبَرَنِي ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ ، يَقُولُ : "سَمِعْتُ رَجُلًا قَرَأَ آيَةً سَمِعْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِلَافَهَا ، فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ ، فَأَتَيْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : كِلَاكُمَا مُحْسِنٌ ". قَالَ شُعْبَةُ : أَظُنُّهُ قَالَ : لَا تَخْتَلِفُوا ، فَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ اخْتَلَفُوا فَهَلَكُوا .
´ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا کہ عبدالملک بن میسرہ نے مجھے خبر دی کہا کہ میں نے نزال بن سمرہ سے سنا، اور انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ` میں نے ایک شخص کو قرآن کی آیت اس طرح پڑھتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے اس کے خلاف سنا تھا۔ اس لیے میں ان کا ہاتھ تھامے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (میرا اعتراض سن کر) فرمایا کہ تم دونوں درست ہو۔ شعبہ نے بیان کیا کہ میں سمجھتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ اختلاف نہ کرو، کیونکہ تم سے پہلے لوگ اختلاف ہی کی وجہ سے تباہ ہو گئے۔
