صحیح بخاری حدیث ۲۴۱۲ - انبیاء میں بے جا مقابلہ نہ کرو
انبیاء کی فضیلت کی حدیث: باہمی ادب اور غصے پر قابو
صحیح بخاری : ۲۴۱۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۱۲
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ جَاءَ يَهُودِيٌّ ، فَقَالَ : يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، ضَرَبَ وَجْهِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِكَ ، فَقَالَ : مَنْ ؟ قَالَ : رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ ، قَالَ : ادْعُوهُ ، فَقَالَ : أَضَرَبْتَهُ ؟ قَالَ : سَمِعْتُهُ بِالسُّوقِ يَحْلِفُ ، وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْبَشَرِ ، قُلْتُ : أَيْ خَبِيثُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخَذَتْنِي غَضْبَةٌ ضَرَبْتُ وَجْهَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُخَيِّرُوا بَيْنَ الْأَنْبِيَاءِ ، فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ ، فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ ، فَلَا أَدْرِي أَكَانَ فِيمَنْ صَعِقَ أَمْ حُوسِبَ بِصَعْقَةِ الْأُولَى " .
ابو سعید خدری روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے کہ ایک یہودی آیا اور کہا کہ اے ابوالقاسم! آپ کے اصحاب میں سے ایک نے مجھے طمانچہ مارا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، کس نے؟ اس نے کہا کہ ایک انصاری نے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں بلاؤ۔ وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے اسے مارا ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں نے اسے بازار میں یہ قسم کھاتے سنا۔ اس ذات کی قسم! جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں پر بزرگی دی۔ میں نے کہا، او خبیث! کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی! مجھے غصہ آیا اور میں نے اس کے منہ پر تھپڑ دے مارا۔اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو انبیاء میں باہم ایک دوسرے پر اس طرح بزرگی نہ دیا کرو۔ لوگ قیامت میں بیہوش ہو جائیں گے۔ اپنی قبر سے سب سے پہلے نکلنے والا میں ہی ہوں گا۔ لیکن میں دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش الٰہی کا پایہ پکڑے ہوئے ہیں۔ اب مجھے معلوم نہیں کہ موسیٰ علیہ السلام بھی بیہوش ہوں گے اور مجھ سے پہلے ہوش میں آ جائیں گے یا انہیں پہلی بے ہوشی جو طور پر ہو چکی ہے وہی کافی ہو گی۔
صحیح بخاری حدیث ۲۴۱۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک یہودی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ آپ کے ایک صحابی نے اسے طمانچہ مارا ہے۔ وجہ یہ تھی کہ اس نے بازار میں موسیٰ علیہ السلام کی فضیلت کی قسم کھائی، جس پر صحابی کو غصہ آیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انبیاء میں اس طرح ایک دوسرے پر بزرگی نہ دیا کرو۔ پھر قیامت کے دن بے ہوشی، اپنی قبر سے پہلے نکلنے، اور موسیٰ علیہ السلام کو عرش کا پایہ پکڑے ہوئے پانے کا ذکر فرمایا۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ انبیاء کا ذکر ادب کے ساتھ ہو، اختلاف کو لڑائی نہ بنایا جائے، اور دینی غیرت کے نام پر کسی پر زیادتی نہ کی جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- انبیاء کے بارے میں جھگڑے والا موازنہ نہیں کرنا چاہیے۔
- غصہ آ جائے تو بھی ہاتھ اٹھانا درست نہیں۔
- شکایت کرنے والے کی بات سنی گئی۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے انبیاء کے ادب کی تعلیم دی۔
