صحیح بخاری حدیث ۲۴۷۲ - راستے سے کانٹا ہٹانے کی حدیث

راستے سے کانٹا ہٹانے کی حدیث: چھوٹی نیکی بھی اہم ہے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۷۲

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ ، وَجَدَ غُصْنَ شَوْكٍ عَلَى الطَّرِيقِ فَأَخَذَهُ ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ایک شخص راستے پر چل رہا تھا کہ اس نے وہاں کانٹے دار ڈالی دیکھی۔ اس نے اسے اٹھا لیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ عمل قبول کیا اور اس کی مغفرت کر دی۔

صحیح بخاری حدیث ۲۴۷۲ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع راستے سے تکلیف ہٹانا ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص راستے پر چل رہا تھا، اس نے کانٹے دار شاخ دیکھی اور اسے اٹھا لیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ عمل قبول فرمایا اور اس کی مغفرت کر دی۔ راستے سے کانٹا ہٹانے کی حدیث بہت آسان مگر دل کو بدلنے والی تعلیم دیتی ہے۔ کبھی نیکی بڑی شکل میں نہیں آتی، بس راستے میں پڑی چیز ہٹانے جیسا چھوٹا کام ہوتا ہے۔ مگر جب اس سے لوگوں کو تکلیف سے بچایا جائے تو یہ اللہ کے ہاں قابل قبول عمل بن سکتا ہے۔ اس روایت میں نہ نام بتایا گیا، نہ بڑی عبادت کا ذکر، بلکہ ایک عام نیکی کا ذکر ہے جو ہر شخص کر سکتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا نیکی ہے۔
  • لوگوں کو نقصان سے بچانا اللہ کے ہاں پسندیدہ عمل ہو سکتا ہے۔
  • چھوٹے عمل کو معمولی سمجھ کر چھوڑنا نہیں چاہیے۔
  • مغفرت اللہ تعالیٰ کے قبول فرمانے سے ملتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں