صحیح بخاری حدیث ۲۴۷۳ - راستے کی زمین کا فیصلہ
راستے کی زمین کی حدیث: جھگڑے میں سات ہاتھ راستہ
صحیح بخاری : ۲۴۷۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۷۳
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ خِرِّيتٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : "قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَشَاجَرُوا فِي الطَّرِيقِ بِسَبْعَةِ أَذْرُعٍ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا تھا جب کہ راستے (کی زمین) کے بارے میں جھگڑا ہو تو سات ہاتھ راستہ چھوڑ دینا چاہئے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۴۷۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع راستے کا حق اور زمین کے جھگڑے کا فیصلہ ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ جب لوگ راستے کی زمین کے بارے میں جھگڑیں تو سات ہاتھ راستہ چھوڑا جائے۔ راستے کی زمین کی حدیث ایک عملی اصول دیتی ہے: مشترک فائدے والی جگہ کو اتنا تنگ نہ کیا جائے کہ لوگوں کو گزرنے میں مشکل ہو۔ یہ روایت خاص طور پر زمین، راستہ، گلی اور گزرگاہ کے معاملات میں عدل کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ اس میں بحث لمبی نہیں، فیصلہ مختصر ہے، مگر اس کے اندر عوامی حق کا خیال صاف نظر آتا ہے۔ جب راستہ سب کے استعمال کا ہو تو ذاتی فائدے کے بجائے گزرنے والوں کی سہولت دیکھی جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- راستے کی زمین کے جھگڑے میں گزرگاہ کا حق رکھا جائے۔
- سات ہاتھ راستہ چھوڑنے کا فیصلہ حدیث میں آیا ہے۔
- مشترک جگہ کو ذاتی فائدے کے لیے تنگ نہیں کرنا چاہیے۔
- اسلامی فیصلے عوام کی سہولت کا خیال رکھتے ہیں۔
