صحیح بخاری حدیث ۲۵۱۴ - مدعیٰ علیہ کی قسم اور عدالتی انصاف
مدعیٰ علیہ کی قسم حدیث: عدالتی انصاف کا واضح اصول
صحیح بخاری : ۲۵۱۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۱۴
حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ : كَتَبْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، " فَكَتَبَ إِلَيَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ " .
ابن ابی ملیکہ روایت:
میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں (دو عورتوں کے مقدمہ میں) لکھا تو اس کے جواب میں انہوں نے تحریر فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا تھا کہ (اگر مدعی گواہ نہ پیش کر سکے) تو مدعیٰ علیہ سے قسم لی جائے گی۔
صحیح بخاری حدیث ۲۵۱۴ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع عدالتی انصاف ہے۔ روایت میں ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو دو عورتوں کے مقدمے کے بارے میں لکھا۔ جواب میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا تھا کہ جب مدعی اپنے دعوے پر گواہ پیش نہ کر سکے تو مدعیٰ علیہ سے قسم لی جائے گی۔ اس سے ایک صاف اصول سمجھ آتا ہے کہ صرف دعویٰ کافی نہیں ہوتا؛ مقدمہ میں گواہی اور ثبوت کی اہمیت ہے۔ اگر گواہ موجود نہ ہوں تو معاملہ مدعیٰ علیہ کی قسم تک پہنچتا ہے۔ اس حدیث میں جھگڑے کے فیصلے کا ایک سادہ اور منصفانہ طریقہ بتایا گیا ہے، تاکہ کسی پر صرف الزام کی بنیاد پر حکم نہ لگایا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صرف دعویٰ کر دینا فیصلہ کے لیے کافی نہیں؛ مدعی کو گواہ یا دلیل پیش کرنی ہوتی ہے۔
- اگر مدعی گواہ نہ لا سکے تو مدعیٰ علیہ سے قسم لی جا سکتی ہے۔
- مقدمات میں فیصلہ ایک منظم اصول کے تحت ہونا چاہیے، ذاتی اندازے پر نہیں۔
- قسم کو عدالتی معاملے میں سنجیدہ ذمہ داری کے طور پر لیا گیا ہے۔
