صحیح بخاری حدیث ۲۵۳۱ - اللہ کے لیے آزادی کا اعلان

اللہ کے لیے غلام آزاد کرنا: ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۳۱

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " لَمَّا قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْتُ فِي الطَّرِيقِ : يَا لَيْلَةً مِنْ طُولِهَا وَعَنَائِهَا عَلَى أَنَّهَا مِنْ دَارَةِ الْكُفْرِ نَجَّتِ " ، قَالَ : وَأَبَقَ مِنِّي غُلَامٌ لِي فِي الطَّرِيقِ ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَايَعْتُهُ ، فَبَيْنَا أَنَا عِنْدَهُ إِذْ طَلَعَ الْغُلَامُ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، هَذَا غُلَامُكَ ؟ فَقُلْتُ : هُوَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللَّهِ ، فَأَعْتَقْتُهُ " . قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : لَمْ يَقُلْ أَبُو كُرَيْبٍ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ حُرٌّ .

ابوہریرہ روایت:

جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا تو آتے ہوئے راستے میں یہ شعر کہا تھا: ہے پیاری گو کٹھن ہے اور لمبی میری رات، پر دلائی اس نے دارالکفر سے مجھ کو نجات۔ انہوں نے بیان کیا کہ راستے میں میرا غلام مجھ سے بچھڑ گیا تھا۔ پھر جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اسلام پر قائم رہنے کے لیے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کر لی۔ میں ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہی ہوا تھا کہ وہ غلام دکھائی دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ابوہریرہ! یہ دیکھ تیرا غلام بھی آ گیا۔ میں نے کہا، یا رسول اللہ! وہ اللہ کے لیے آزاد ہے۔ پھر میں نے اسے آزاد کر دیا۔امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوکریب نے (اپنی روایت میں) ابواسامہ سے یہ لفظ نہیں روایت کیا کہ وہ آزاد ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۲۵۳۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے تو راستے میں کہے گئے شعر کا ذکر کیا، جس میں رات کی مشقت اور دارالکفر سے نجات کا احساس تھا۔ ان کا غلام راستے میں جدا ہو گیا تھا۔ جب ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر قائم رہنے کے لیے بیعت کی، تو وہ غلام بھی آ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی توجہ دلائی کہ یہ تمہارا غلام ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ اللہ کے لیے آزاد ہے، پھر اسے آزاد کر دیا۔ اس روایت میں بیعت، اسلام کی نعمت، اور اللہ کے لیے عتق کا عمل ایک ساتھ آتے ہیں۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ نیکی کبھی ذاتی فائدے کے بجائے اللہ کی رضا کے لیے بھی کی جاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اسلام پر قائم رہنے کی بیعت اس روایت کا اہم حصہ ہے۔
  • ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے غلام کو اللہ کے لیے آزاد کیا۔
  • نعمت ملنے پر نیکی کے ذریعے شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں