صحیح بخاری حدیث ۲۵۳۲ - غلام اللہ کے لیے ہے
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول: وہ اللہ کے لیے ہے
صحیح بخاری : ۲۵۳۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۳۲
حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ : لَمَّا أَقْبَلَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَمَعَهُ غُلَامُهُ وَهُوَ يَطْلُبُ الْإِسْلَامَ ، فَضَلَّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ بِهَذَا ، وَقَالَ : أَمَا إِنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّهُ لِلَّهِ " .
قیس روایت:
جب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آ رہے تھے تو ان کے ساتھ ان کا غلام بھی تھا، آپ اسلام کے ارادے سے آ رہے تھے۔ اچانک راستے میں وہ غلام بھول کر الگ ہو گیا (پھر یہی حدیث بیان کی) اس میں یوں ہے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا تھا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بناتا ہوں کہ وہ اللہ کے لیے ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۵۳۲ کا خلاصہ
اس روایت میں پچھلے واقعے کی ایک اور صورت بیان ہوئی ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اسلام کی طلب میں آ رہے تھے اور ان کے ساتھ ان کا غلام بھی تھا۔ راستے میں وہ غلام الگ ہو گیا۔ پھر جب واقعہ بیان ہوا تو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنا کر کہا کہ وہ اللہ کے لیے ہے۔ یہاں الفاظ کا انداز خاص ہے: میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ وہ اللہ کے لیے ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام کے بارے میں آزادی یا اللہ کے لیے چھوڑنے کا اعلان کیا۔ اس حدیث کا اصل پیغام عتق للہ ہے، یعنی آزادی کا عمل اللہ کی رضا کے لیے کیا گیا۔ متن میں اسلام کی طلب، سفر کی جدائی، اور پھر غلام کے بارے میں نیک فیصلہ بیان ہوا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نیک عمل کو اللہ کے لیے کرنے کا جذبہ اس روایت میں نمایاں ہے۔
- گواہی کے ساتھ اعلان کرنا معاملے کو واضح بناتا ہے۔
- اسلام کی طلب ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے سفر کا بنیادی مقصد تھا۔
