صحیح بخاری حدیث ۲۵۴۱ - غزوہ بنی مصطلق اور قیدیوں کا واقعہ
غزوہ بنی مصطلق کی حدیث: واقعہ اور جنگی قیدیوں کا ذکر
صحیح بخاری : ۲۵۴۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۴۱
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : كَتَبْتُ إِلَى نَافِعٍ فَكَتَبَ إِلَيَّ ، " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَغَارَ عَلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُّونَ ، وَأَنْعَامُهُمْ تُسْقَى عَلَى الْمَاءِ ، فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَهُمْ وَسَبَى ذَرَارِيَّهُمْ وَأَصَابَ يَوْمَئِذٍ جُوَيْرِيَةَ " . حَدَّثَنِي بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَكَانَ فِي ذَلِكَ الْجَيْشِ .
نافع روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق پر جب حملہ کیا تو وہ بالکل غافل تھے اور ان کے مویشی پانی پی رہے تھے۔ ان کے لڑنے والوں کو قتل کیا گیا، عورتوں بچوں کو قید کر لیا گیا۔ انہیں قیدیوں میں جویریہ رضی اللہ عنہا (ام المؤمنین) بھی تھیں۔ (نافع رحمہ اللہ نے لکھا تھا کہ) یہ حدیث مجھ سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کی تھی، وہ خود بھی اسلامی فوج کے ہمراہ تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۵۴۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع غزوہ بنی مصطلق ہے۔ روایت میں بتایا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق پر اس وقت حملہ کیا جب وہ غافل تھے اور ان کے مویشی پانی پی رہے تھے۔ متن کے مطابق ان کے لڑنے والوں کو قتل کیا گیا اور عورتوں بچوں کو قید کیا گیا۔ اسی واقعہ میں جویریہ رضی اللہ عنہا بھی قیدیوں میں تھیں۔ یہ بات بھی صاف بیان ہوئی ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما خود اس اسلامی لشکر میں موجود تھے، اس لیے روایت واقعہ کے عینی تعلق کو بھی بتاتی ہے۔ اس حدیث کی تشریح میں ہمیں صرف اتنا ہی کہنا چاہیے جو متن میں ہے: یہ ایک غزوہ کا واقعہ ہے، بنو مصطلق کا ذکر ہے، اور اس میں قیدیوں کا بیان آیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث کے متن سے معلوم ہوتا ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس لشکر میں شامل تھے۔
- غزوہ بنی مصطلق میں لڑنے والوں اور قیدیوں کا ذکر صراحت کے ساتھ آیا ہے۔
- جویریہ رضی اللہ عنہا کا نام اسی واقعہ کے قیدیوں میں بیان ہوا ہے۔
