صحیح بخاری حدیث ۲۵۴۴ - لونڈی کو آزاد کر کے نکاح کا اجر
لونڈی کو آزاد کر کے نکاح: دوہرے اجر کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۵۴۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۴۴
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ فُضَيْلٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ جَارِيَةٌ فَعَالَهَا فَأَحْسَنَ إِلَيْهَا ، ثُمَّ أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا كَانَ لَهُ أَجْرَانِ " .
ابوموسیٰ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس شخص کے پاس کوئی لونڈی ہو اور وہ اس کی اچھی پرورش کرے اور اس کے ساتھ اچھا معاملہ کرے، پھر اسے آزاد کر کے اس سے نکاح کر لے تو اس کو دوہرا ثواب ملے گا۔“
صحیح بخاری حدیث ۲۵۴۴ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع آزادی اور حسن سلوک ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کے پاس کوئی لونڈی ہو، وہ اس کی اچھی پرورش کرے، اس کے ساتھ اچھا معاملہ کرے، پھر اسے آزاد کر کے اس سے نکاح کر لے، تو اس کے لیے دوہرا ثواب ہے۔ اس حدیث میں تین باتیں خاص طور پر آتی ہیں: پرورش، اچھا برتاؤ، اور آزادی کے بعد نکاح۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ حدیث کا مضمون صرف نیکی کی عمومی بات نہیں کر رہا، بلکہ ایک خاص صورت بتا رہا ہے۔ اردو میں لوگ اسے لونڈی کو آزاد کرنے کی حدیث، دوہرے اجر کی حدیث، اور حسن سلوک کی حدیث کے طور پر تلاش کرتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زیر دست کے ساتھ اچھا معاملہ کرنا حدیث کے متن میں واضح طور پر آیا ہے۔
- آزادی کے بعد نکاح کرنے پر دوہرے اجر کا ذکر کیا گیا ہے۔
- پرورش اور حسن سلوک کو آزادی سے پہلے بیان کیا گیا ہے۔
