صحیح بخاری حدیث ۲۵۴۵ - غلام بھی تمہارے بھائی ہیں
غلام بھی تمہارے بھائی ہیں: خادموں کے حقوق کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۵۴۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۴۵
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْمَعْرُورَ بْنَ سُويْدٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ أَبَا ذَرٍّ الْغِفَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ وَعَلَى غُلَامِهِ حُلَّةٌ ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : إِنِّي سَابَبْتُ رَجُلًا فَشَكَانِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَعَيَّرْتَهُ بِأُمِّهِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ إِخْوَانَكُمْ خَوَلُكُمْ ، جَعَلَهُمُ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ ، فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدِهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ ، وَلَا تُكَلِّفُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ ، فَإِنْ كَلَّفْتُمُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ فَأَعِينُوهُمْ " .
معرور بن سوید روایت:
میں نے ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ان کے بدن پر بھی ایک جوڑا تھا اور ان کے غلام کے بدن پر بھی اسی قسم کا ایک جوڑا تھا۔ ہم نے اس کا سبب پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ ایک دفعہ میری ایک صاحب (یعنی بلال رضی اللہ عنہ سے) سے کچھ گالی گلوچ ہو گئی تھی۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میری شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم نے انہیں ان کی ماں کی طرف سے عار دلائی ہے؟پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تمہارے غلام بھی تمہارے بھائی ہیں اگرچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہاری ماتحتی میں دے رکھا ہے۔ اس لیے جس کا بھی کوئی بھائی اس کے قبضہ میں ہو اسے وہی کھلائے جو وہ خود کھاتا ہے اور وہی پہنائے جو وہ خود پہنتا ہے اور ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالے۔ لیکن اگر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالو تو پھر ان کی خود مدد بھی کر دیا کرو۔
صحیح بخاری حدیث ۲۵۴۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع خادموں کے حقوق ہے۔ ابوذر رضی اللہ عنہ کے واقعہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اس بات پر تنبیہ فرمائی کہ کسی کو اس کی ماں کی طرف سے عار دلانا درست نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے غلام تمہارے بھائی ہیں، اللہ نے انہیں تمہاری ماتحتی میں دیا ہے۔ اس لیے جس کے قبضہ میں اس کا بھائی ہو، وہ اسے وہی کھلائے جو خود کھاتا ہے، وہی پہنائے جو خود پہنتا ہے، اور اس پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالے۔ اگر ایسا کام دے جو بھاری ہو تو اس کی مدد کرے۔ یہ حدیث خادم کے ساتھ حسن سلوک کا بہت صاف سبق دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی کو نسب یا ماں کی وجہ سے عار دلانا قابل گرفت عمل ہے۔
- غلام یا خادم کے کھانے اور لباس کا خیال رکھنا چاہیے۔
- طاقت سے زیادہ کام دیا جائے تو مدد بھی کی جائے۔
- زیر دست کو بھائی سمجھ کر برتاؤ کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔
