صحیح بخاری حدیث ۲۵۵۰ - آقا کی خیرخواہی اور دوگنا ثواب

آقا کی خیرخواہی اور رب کی عبادت: دوگنا ثواب

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۵۰

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا نَصَحَ الْعَبْدُ سَيِّدَهُ وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ ، كَانَ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب غلام اپنے آقا کی خیر خواہی کرے اور اپنے رب کی عبادت تمام حسن و خوبی کے ساتھ بجا لائے تو اسے دوگنا ثواب ملتا ہے۔“

صحیح بخاری حدیث ۲۵۵۰ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع دوگنا ثواب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب غلام اپنے آقا کی خیرخواہی کرے اور اپنے رب کی عبادت اچھی طرح بجا لائے تو اسے دوگنا اجر ملتا ہے۔ یہ مضمون غلام کے عمل کی دو سمتیں بتاتا ہے۔ ایک سمت اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے، جس میں بندہ اپنے رب کے ساتھ تعلق درست رکھتا ہے۔ دوسری سمت آقا کے ساتھ خیرخواہی ہے، یعنی اس کے حق میں دیانت اور بھلائی کا رویہ۔ حدیث میں اجر کو دو مرتبہ بتایا گیا ہے، اس لیے اسے غلام کے دوگنا اجر کی حدیث کے طور پر تلاش کیا جاتا ہے۔ وضاحت میں یہی بات کافی ہے کہ عبادت اور ذمہ داری دونوں جمع ہوں تو اجر کا خاص ذکر آیا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ کی عبادت کو اچھے طریقے سے ادا کرنا ضروری ہے۔
  • آقا کے ساتھ خیرخواہی بھی حدیث میں قابل اجر عمل ہے۔
  • دوگنا اجر کا تعلق اسی خاص کیفیت سے بیان ہوا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں